لیبیا کے مشرق میں سیلاب کی وجہ سے اموات کی تعداد 3 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے جن میں سے زیادہ تر اموات درنہ شہر میں ہوئی ہیں۔ سیلاب کی وجہ سے 10 ہزار افراد لاپتہ ہیں۔
ملک کے مشرق میں حکومت کے صحت کے ذرائع کے مطابق سیلاب کی وجہ سے اموات کی تعداد 3 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور 10 ہزار افراد لاپتہ ہیں۔
علاقے میں حکومت کے وزیر داخلہ اعصام ابو زریبہ نے کہا ہے کہ درنہ شہر میں شدید بارشوں کی وجہ سے ہلاک ہونے والے ایک ہزار 500 افراد کی لاشیں مِل گئی ہیں اور لاپتہ افراد کی تعداد 7 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
درنہ کی بلدیہ اسمبلی کے رکن ‘احمد امدر’ نے فیس بک سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ شہر میں عمارتوں اور رہائشی مکانات کی اکثریت پانی میں ڈوب گئی ہے، سڑکیں اور پُل سیلابی ریلے میں بہہ گئے اور سرکاری و نجی املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔
لیبیا قومی اتحاد حکومت کے ترجمان محمد حمود نے سیلاب کی وجہ سے منعقدہ ہنگامی کابینہ اجلاس کے بعد سوشل میڈیا پیج سے بیان جاری کیا ہے۔
حمود نے کہا ہے کہ محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق جبل الاخضر میں 400 ملی میٹر بارش برسی ہے۔ بارش کی یہ مقدار گذشتہ 40 سالوں میں لیبیا میں برسنے والی بارش کی بلند ترین مقدار ہے۔
حمود نے سیلاب کی تباہ کاریوں کی وجہ سے قومی اتحاد حکومت کے وزیر اعظم عبدالحمید دبیبہ کی طرف سے 3 روزہ سوگ کے اعلان کی یاد دہانی کروائی اور کہا ہے کہ ملک بھر میں پرچم سرنگوں رکھا جائے گا۔
وزیر اعظم دبیبہ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لئے بین الاقوامی امداد کی بھی اپیل کی ہے۔
نامساعد موسمی حالات نے لیبیا کے شہروں بن غازی، بیضا، مرج اور سوسہ کو بھی متاثر کیا ہے۔
