اٹک : وطن عزیز پاکستان جو کلمہ طیبہ کے نام پر حاصل کیا گیا اس کے وسائل کو شیر مادر سمجھ کر ہڑپ کیا جا رہا ہے، کرپشن ایک ناسور بن چکا ہے۔ جماعت اسلامی اسے جڑ سے اکھاڑ کر رہے گی۔
امیدوار قومی اسمبلی حلقہ این اے 49 اٹک ون و قائم مقام امیر جماعت اسلامی صوبہ پنجاب شمالی اقبال خان نے دفتر جماعت اسلامی ضلع اٹک میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اٹک میں پیر مہر علی شاہ کے نام پر قائم کی جانے والی بارانی زرعی یونیورسٹی کی تعمیر میں اربوں روپوں کی کرپشن سامنے آگئی ہے، لیکن اٹک اب لاوارث نہیں رہا۔ جماعت اسلامی قانونی کارروائی اور عوامی مزاحمت کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
ان کے ہمراہ امیدوار صوبائی حلقہ پی پی تھری اٹک و امیر شہر میاں محمد جنید، ضلعی سیکرٹری جنرل حافظ محمد بلال، محمد اقبال ملک اور سید ثنا اللہ بخاری بھی موجود تھے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقبال خان نے کہا پیر مہر علی شاہ بارانی زرعی یونیورسٹی اٹک کمپیس کی تکمیلی دستاویز پی سی فور 27 دسمبر 2022 کو جمع کرا دیا گیا تھا جب کہ موقع پر موجود عمارت کسی کھنڈر کا نمونہ پیش کر رہی ہے۔قابل افسوس بات یہ ہے کہ آڈٹ رپورٹ کے مطابق 1.27 ارب روپے کی اخراجات کا کوئی ثبوت نہیں۔
اقبال خان نے کہا کہ 8 فٹ اونچی دیوار جس پر خاردار تار لگنی تھی 47 ملین روپے ادا کیے گئے جب کہ چار دیواری کا کچھ حصہ مکمل ہوا اس پر تار بھی نہیں لگی ہوئی تھی اس کی اونچائی صرف 6 فٹ تھی۔ طالبات کے ہوسٹل کے لیے تخمینے کی رقم 47 کی بجائے 51 ملین ادا کی گئی۔ ایڈمن بلاک کے لیے 39.3 ملین بوائز ہاسٹل کے لیے 102.4 ملین بلڈنگ آفس کے لیے 5.7 ملین، لائبریری کے لیے 21 ملین، ہیلتھ سینٹر کے لیے 3.4 ملین، مسجد کے لیے6.4 ملین، تدریسی بلاک کے لیے 161.5 ملین، اساتذہ ہوسٹل کے لیے 18.5 ملین، تحقیقی ادارہ کے لیے 111.7 ملین اور منی مارکیٹ کے لیے 5 ملین روپے کی رقم ادا کی گئی یہ ساری رقوم اصل تخمینے سے کہیں زیادہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ نامکمل تعمیرات کے باوجود رقم ادا کر دی گئی، کسی بھی عمارت میں بجلی سیورج اور واش روم کی سہولیات ناپید ہیں۔ اکثر جگہوں سے پلستر اور فرش اکھڑا ہوا ہے دروازے اور کھڑکیاں انتہائی ناقص ہیں یہ بات قابل مذمت ہے ان 9 برس میں 3 سیاسی اور دو نگران حکومتیں اور منتخب ایم این ایز اور ایم پی اے اپنی باری پہ حکومت میں رہے لیکن کسی نے بھی اس طرف توجہ نہیں دی اور نہ ہی تعمیرات کا جائزہ لیا گیا جس کی وجہ سے اتنے بڑے پیمانے پر غبن ہوتا رہا کوئی پوچھنے والا نہیں۔
اقبال خان کا کہنا تھا کہ ہم سابق ممبران اسمبلی سے سوال کرتے ہیں کہ انہوں نے کوئی قدم کیوں نہیں اٹھایا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیب اس معاملے میں مداخلت کرے اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عمارت کی فٹنس کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا جائے تاکہ مستقبل کے بڑے خطرے سے بچا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ فوری طور پر اس غبن کا پتا چلایا جائے جو بھی سامنے آئے اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے جماعت اسلامی اپنا حق محفوظ رکھتی ہے کہ وہ اس ایشو کو عوامی عدالت میں لیکر جائے اور غبن کے قومی مجرموں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کی کوشش کرے۔
