بلوچستان کے نگراں وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے اتوار کو خبردار کیا کہ اگر بھارت نے مستونگ دہشت گردانہ حملے میں ملوث نکلا تو اسکو ’مناسب جواب‘ دیا جائے گا۔
جمعہ کو ایک خودکش حملہ آور نے مستونگ ضلع میں ایک مسجد کے قریب عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم ولادت سے متعلق جلوس کے لیے تیار لوگوں کو نشانہ بنایا۔ حملے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 60 ہو گئی ہے۔
کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے اور مستونگ واقعے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہونے کی صورت میں ریاست ’مناسب جواب‘ کو یقینی بنائے گی۔
وزیر اطلاعات نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ صوبے کے سیکیورٹی پلان پر نظرثانی کی جائے گی تاکہ کسی بھی خامی کو دور کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ”سیکیورٹی پلان کو شروع سے دوبارہ ترتیب دیا جا رہا ہے ضرورت پڑنے پر صوبے بھر میں ہر انچ پر انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز (IBOs) کریں گے۔”
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ملک کو غیر مستحکم کرنے کی ایک مربوط کوشش ہے، انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ریاست پاکستان مخالف سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرنے والے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے گی۔
مستونگ واقعے کے شہداء کے لواحقین کی حکومت کی طرف سے امداد پر تبصرہ کرتے ہوئے اچکزئی نے اعلان کیا کہ حکومت شہداء کے خاندانوں میں سے ہر ایک کو 15 لاکھ روپے فراہم کرے گی۔
دریں اثنا، شدید زخمیوں اور معمولی زخمیوں کو بالترتیب 500,000 اور 250,000 روپے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی پیکج میں حصہ لینے کے لیے بھی کہیں گے۔”
مزید برآں، وزیر اطلاعات نے چیف آف آرمی سٹاف (سی او اے ایس) جنرل عاصم منیر کے ہفتے کے روز کوئٹہ کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے دہشت گردی کی لعنت کو روکنے کے لیے آرمی چیف کے عزم کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ اپنے دورے کے دوران آرمی چیف نے ہر قسم کی دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی یقین دہانی کرائی۔
کرنسی سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کے معاملے پر یقین دہانی کراتے ہوئے اچکزئی نے کہا کہ حکومت آرمی چیف اور وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کے ویژن کی روشنی میں کرنسی سمیت ہر قسم کی سمگلنگ پر لگام لگائے گی۔

