انقرہ: ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ اب یورپی یونین سے کسی چیز کی توقع نہیں،ہم 40 سال سے اس کا انتظار کر رہے ہیں ۔
ترک پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ میں اب نہ تو پارلیمنٹ بند ہوتی ہے اور نہ ہی بغاوتیں کامیاب ہوتی ہیں۔ امن اور شہریوں کی سلامتی کو تباہ کرنے کی کوشش کرنے والے دہشت گرد کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
نئے پارلیمانی سیشن کے لیے نیا آئین ترجیح ہے، ترکیہ مہنگائی کے خلاف کوششیں جاری رکھےگا، ترکیہ کی ترقی کے لیے بہت کام کیا گیا ہے، اب ہم ایسے ملک میں نہیں رہتے جہاں پارلیمان ختم کرکے بغاوت کی جائے، ہماری ذمہ داری ہےکہ شہری نئے آئین کے لیےکام کریں۔
انہوں نے کہا کہ “دہشت گرد” ترکی میں اپنے مقاصد کبھی حاصل نہیں کر سکیں گے، انقرہ میں آج کی دہشت گردی کی کارروائی جس میں پولیس کی بروقت مداخلت کی بدولت دو مجرموں کو ناکام کر دیا گیا، دہشت گردی کی آخری لہر ہے۔
وزیر داخلہ علی یرلیکایا نے وزارت کے باہر ایک پریس بیان میں کہا کہ دو حملہ آور صبح 9:30 بجے (0630 GMT) کے قریب ایک کمرشل گاڑی میں “ہماری وزارت داخلہ کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف سیکیورٹی کے داخلی دروازے کے سامنے پہنچے، اور بم حملہ کیا۔”
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں میں سے ایک نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دوسرے کو سر میں گولی لگنے سے ہلاک کر دیا گیا اس سے پہلے کہ اسے خود کو دھماکے سے اڑانے کا موقع ملے،” ۔
انہوں نے مزید کہا کہ فائرنگ کے تبادلے میں ہمارے دو پولیس اہلکار ہلکے سے زخمی ہوئے، لیکن ان کی جان کو خطرہ نہیں تھا۔
انقرہ کے پراسیکیوٹر کے دفتر نے کہا کہ وہ تحقیقات کا آغاز کر رہا ہے اور علاقے تک رسائی پر پابندی لگا دی ہے۔ مقامی میڈیا سے کہا گیا کہ وہ حملے کی جگہ سے تصاویر نشر کرنا بند کر دیں۔
فوری طور پر کسی نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

