مقبوضہ بیت المقدس: 2000ء میں اپنے 12 سالہ بیٹے کو آنکھوں کے سامنے شہید ہوتا دیکھنے والے فلسطینی باپ کے مزید 2 بیٹے غزہ پر اسرائیلی دہشت گردی میں جام شہادت نوش کر گئے۔
Remember the father, who was filmed protecting his 12-year-old son, Mohammad Al Dorrah, from a rain of Israeli bullets before losing him 23 years ago (left)? He lost 2 other sons in an Israeli strike on his house in #Gaza today (right). pic.twitter.com/39p5TH38uw
— Quds News Network (@QudsNen) October 15, 2023
واضح رہے کہ فلسطینی علاقوں خصوصاً غزہ پر اسرائیلی بم باری کو مسلسل 9 دن ہو چکے ہیں، جس میں اب تک 2500 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جب کہ زخمیوں کی تعداد 10 ہزار سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیل کی جانب سے حالیہ بمباری میں غزہ کے 2 نوجوان شہید ہوئے، جن سے متعلق دل دہلا دینے والے حقائق سامنے آئے ہیں۔عرب میڈیا سمیت سوشل میڈیا پر ایک فلسطینی کی تصویر وائرل ہے، جس میں وہ اپنے 2 بیٹوں کی لاش کے پاس بیٹھا ہے۔ یہ فلسطینی جمال الدرہ وہی شخص ہے، جس کی تصویر سن 2000ء میں عالمی میڈیا پر چھائی تھی، جس کے بعد فلسطینی انتفاضہ کی ایک تحریک شروع ہو گئی تھی۔
23 سال قبل غزہ کے رہائشی فلسطینی کی ایک تصویر میڈیا میں وائرل ہوئی تھی، جس میں وہ اپنے 12 سالہ بیٹے محمد الدرہ کو اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے بچانے کی کوشش کررہا تھا، تاہم قابض صہیونی ریاست کے دہشت گرد فوجیوں کی فائرنگ سے 12 سالہ بچہ محمد الدرہ جام شہادت نوش کرگیا تھا۔ اس واقعے کی بنی ہوئی ایک صحافی کے ہاتھوں کی فوٹیج اور اس سے حاصل کی گئی تصویر صہیونی ریاست اور اس کی قابض فوج کی جارحیت کی ایک بدترین مثال بن گئی تھی۔
WATCH:
Remember this video?
It was in the year 2000, the Israeli Occupation Forces shot 12 year old Muhammad Al Durrah to death as his father (Jamal al-Durrah) tried to shield him.
Today, Jamal lost 2 more of his children due to an Israeli airstrike on Gaza.
The first video… pic.twitter.com/xYQmaBsOfN
— Khalissee (@Kahlissee) October 15, 2023
حالیہ واقعے میں فلسطینی جمال الدرہ کی نئی تصویر بھی وائرل ہو گئی، جس میں وہ اپنے دوسرے 2 بیٹوں کی لاشوں کے پاس بیٹھے ہیں، جو غزہ میں اسرائیل کی حالیہ بم باری میں جام شہادت نوش کر گئے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر فلسطینی جمال الدرہ کی استقامت کو بطور مثال اور فلسطینیوں کی جرات و بہادری کی علامت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
