English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کر دیا

القمر

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے میں،غزہ کا محاصرہ ختم کرنے، فوری طورپر جنگ بندکرنے اور امداد پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔

غزہ میں جاری اسرائیلی بمباری سے پیدا ہونے والی صورتحال پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سلامتی کونسل کے ارکان نے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں انسانی بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے ، اسرائیل فی الفور بمباری بند کرے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے کہا کہ امداد کی محفوظ اور فوری ترسیل کے لیے انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کی ضرورت ہے۔

گوتیریس نے کہا، “اسرائیلیوں کو چاہیے کہ وہ فلسطینیوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں، بین الاقوامی قانون اور سابقہ معاہدوں کے مطابق، ایک آزاد ریاست کےجائز مطالبے کو پورا کرے”۔

انہوں نے فلسطینی عوام کی حالت زار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حماس کے حالیہ حملے خلا میں نہیں ہوئے۔یہ ان کی پائیدار جدوجہد کی نشاندہی کرتے ہیں،اسرائیلی بمباری سے ہزاروں افراد لقمہ اجل بنے،ان کی معیشت کا گلا گھونٹاگیا،لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، سیاسی حل کے لیے میری امیدیں تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہیں۔

گوتیرس کے ریمارکس پراسرائیل کے سفیر گیلاد اردن نے غصے میں آکر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل سے “فوری طور پر مستعفی” ہونے اور ان کے ساتھ طے شدہ ملاقات منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔
فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے سلامتی کونسل اور بین الاقوامی برادری سے غزہ کے عوام کی جانیں بچانے اور اپنا فرض پورا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ ” ناانصافی اور قتل و غارت گری اسرائیل کو محفوظ نہیں بنائے گی۔”
اس اجلاس کی صدارت کرنے والے برازیل کے وزیر خارجہ مورو ویرا نے غزہ کی آبادی کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اسرائیل کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ واقعات، بشمول انخلاء کے احکامات، معصوم لوگوں کے لیے مصائب کا باعث بنے ہیں۔

اقوام متحدہ میں روس کے سفیر، واسیلی نیبنزیا، نے غزہ میں انسانی تباہی کی حد کو واضح کرتے ہوئے، ہلاکتوں اور زخمیوں کی تشویشناک تعداد کی نشاندہی کی۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں اور دو ریاستی حل کے مطابق فلسطین اسرائیل تنازع کا منصفانہ حل علاقائی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

“انہوں نے کہا کہ 1967 میں سرحدوں کی جو حد بندی تھی اس کے تحت ایک خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہونا چاہیے، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو، جو اسرائیل کے ساتھ امن و سلامتی کے ساتھ ساتھ رہے۔”

غزہ میں انسانی صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں چین کے سفیر ژانگ جون نے کہا کہ فوری کوششوں کی ضرورت ہے۔اس وقت جو امداد فراہم کی جارہی ہے وہ ایک قطرے کی مانند ہے، غزہ کا مکمل محاصرہ بھی اٹھایا جانا چاہیے۔

انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے حملے بند کرے اور امداد پہنچانے کی اجازت دے، انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی انسانی قانون کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کونسل کو ہر سطح پر قانون کی حکمرانی کا دفاع کرنا چاہیے اور کسی بھی خلاف ورزی کی مخالفت کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ تنازع کی بنیادی وجہ فلسطینی سرزمین پر طویل قبضے اور ان کے حقوق کے احترام کی کمی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کونسل کے اقدامات کو اس سے انحراف نہیں کرنا چاہیے۔

عرب ریاستوں نے بھی غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی ہے اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس پٹی میں انسانی امداد کی ترسیل کی اجازت دی جا سکے۔

برطانیہ کے وزیر برائے سلامتی ٹام ٹگینڈہٹ نے تسلیم کیا کہ فلسطینی مشکلات کا شکار ہیں۔
مزید برآں، کیتھرین کولونا فرانسیسی وزیر برائے یورپ اور خارجہ امور نے کہا کہ غزہ میں محفوظ اور فوری امدادی کی ترسیل فوری ضرورت ہے۔

دریں اثنا، امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے شہریوں کے تحفظ کی اہم ضرورت پر بھی زور دیا، انہوں نے مزید کہا کہ “اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

گزشتہ بدھ کو، 15 رکنی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل برازیل کی ایک مسودہ قرارداد کو منظور کرنے میں ناکام رہی جس میں غزہ پر اسرائیل کی جنگ کو “انسانی بنیادوں پرروکنے” کا مطالبہ کیا گیا تھا اور اسرائیل پر زور دیا گیا تھا کہ وہ غزہ کے شہریوں کو فلسطینی علاقوں کے جنوب میں منتقل ہونے کے اپنے حکم کو واپس لے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے