واشنگٹن: امریکا کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں جوہری آبدروز بھیجنے کا باضابطہ اعلان کردیا گیا ہے، یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صہیونی وزیر نے حال ہی میں اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ غزہ پر ایٹم بم گرانا بھی ایک آپشن ہے۔
في 5 نوفمبر/ تشرين الثاني 2023، وصلت غواصة من طراز أوهايو إلى منطقة مسؤولية القيادة المركزية الأمريكية.#القيادة_المركزية_الامريكية pic.twitter.com/nWGMeZ0elc
— U.S. Central Command (@CENTCOMArabic) November 5, 2023
بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی سینٹرل کمانڈ (یو ایس سینٹ کام) کی جانب سے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان اور تصویر جاری کی گئی ہے، جس میں امریکی بحریہ کی جوہری آبدوز سینٹرل کمانڈ کے زیر نگرانی مشرق وسطیٰ کے علاقے میں پہنچنے سے متعلق بتایا گیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کی غزہ پر بمباری کے دوران خطے میں جاری کشیدہ حالات پر امریکا کی جانب سے اس سے پہلے بھی 2 جنگی طیارہ بردار بحری جہاز روانہ کیے جا چکے ہیں اور موجودہ بھیجی گئی جوہری آبدوز بھی اسی مشن میں شامل ہو جائے گی۔
The Dwight D. Eisenhower Carrier Strike Group (IKECSG) arrived in the Middle East and the CENTCOM area of responsibility as part of the increase in regional posture.
The strike group is commanded by Carrier Strike Group (CSG) 2 and comprised of flagship aircraft carrier USS… pic.twitter.com/CYLX5mTTki
— U.S. Central Command (@CENTCOM) November 4, 2023
واضح رہے کہ فلسطینی تحریک مزاحمت حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے 7 اکتوبر کو شروع کیے گئے آپریشن طوفان الاقصیٰ کے بعد سے اسرائیل کے فلسطین پر مسلسل وحشیانہ بمباری کو 31 دن ہو چکے ہیں جس میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد تقریباً 10 ہزار ہو چکی ہے، جس میں خواتین اور بچے بھی بڑی تعداد میں شامل ہیں۔
