اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے فراہم کردہ مالیاتی ڈیٹا پر اطمینان کا اظہار کردیا۔
آئی ایم ایف کا جائزہ مشن رواں مالی سال کے پہلے تین ماہ جولائی سے ستمبر تک ملک کی معاشی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے پاکستان کے ساتھ بات چیت مکمل ہوگئی جس میں وزارت خزانہ کی جانب سے فراہم کردہ مالیاتی خسارے پر ڈیٹا سے مطمئین ہو گیا ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم نے بجلی کی سبسڈی کے اعدادوشمار کے جائزے کے دوران ٹیوب ویلز کے لیے سولرائزیشن اسکیم تجویز کی ہے۔ ٹیوب ویلوں کے لیے سولرائزیشن اسکیم پر 90 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ سولرائزیشن اسکیم کے حوالے سے تجاویز اگلے ماہ وفاقی کابینہ میں پیش کی جا سکتی ہیں ، ذرائع کے مطابق 90 ارب روپے وفاقی حکومت، صوبے اور صارفین یکساں طور پر شیئر کریں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت، صوبے اور ٹیوب ویل صارفین 30 ارب روپے بانٹیں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ فریقین رواں مالی سال میں ٹیوب ویل سولرائزیشن اسکیم شروع کرنے پر بھی بات چیت کر رہے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ “وزارت توانائی اس اسکیم پر وزارت خزانہ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے مشاورت کرے گی۔اسکیم کے نفاذ کے بعد ٹیوب ویل صارفین کو بجٹ میں بجلی پر سبسڈی نہیں دی جائے گی۔”
آئی ایم ایف نے ڈسکوز، وزارت توانائی اور نیپرا کے درمیان ہم آہنگی اور فیصلوں پر عملدرآمد پر بھی زور دیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ توانائی اور خزانہ کی وزارتوں کے حکام نے آئی ایم ایف مشن کے ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات کے حوالے سے بھی میٹنگ کی۔
