English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

فیض آباد دھرنا کیس؛ سب کو سچ پتا ہے، بولنے کی ہمت کوئی نہیں کرتا، چیف جسٹس

القمر

اسلا م آباد: فیض آباد دھرنا نظر ثانی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیے ہیں کہ سب کو سچا کا پتا ہے مگر بولنے کی ہمت کوئی نہیں کرتا۔

نجی ٹی وی کے مطابق فیض آباد دھرنا نظر ثٓنی کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی  کی سربراہی میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے 3 رکنی بینچ میں کی۔ بینچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ شامل تھے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے  شیخ رشید سے پوچھا کہ آپ نے نظرثانی کی درخواست کیوں دائر کی تھی، اور پھر اسے 4 سال تک لٹکا کر رکھا۔  یہ نیں ہوگا کہ اوپر سے آرڈر آیا تو نظر ثانی کی درخواست دائر کردی جائے۔

شیخ رشید کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ کسی غلط فہمی کی بنیاد پر نظرثانی کی اپیل دائر کی گئی تھی، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سچ کا سب کو پتا ہے، لیکن کوئی بولنے کی ہمت نہیں کرتا۔  وکیل نے کہا کہ آج کل سچ بولنے کی ہمت کرنا بہت مشکل ہوگیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آج کل کی بات نہیں، ہم اس وقت کی بات کررہے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیا سپریم کورٹ کو کوئی باہر سے کنٹرول کر رہا ہے، نظرثانی کی درخواست آجاتی ہے پھر کئی سال تک لگتی ہی نہیں، پھر کہا جاتا ہے کہ فیصلے پر عمل نہیں کیا جا رہا کیونکہ نظرثانی زیر التوا ہے، آپ اب بھی یہ سچ نہیں بولیں گے کہ کس نے نظرثانی کا کہا تھا۔ جس پر شیخ رشید کے وکیل نے کہا کہ مجھے کسی نے نہیں کہا تھا، وکیل کے مشورے سے نظرثانی دائر کی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لگتا ہے سپریم کورٹ کو ماضی میں اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔ سو سال بعد بھی یہ سچ نہیں بولا جائے گا کہ نظرثانی درخواستیں کس نے دائر کروائیں۔ ملک میں نفرتیں پھیلانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، اپنے ملک کے سب سے بڑے دشمن خود ہیں۔ کوئی سڑکیں بند کر کے جلاؤ گھیراؤ کرکے ملک کے ساتھ مخلص نہیں ہے۔

دوران سماعت اٹارنی جنرل نے نوٹی فکیشن عدالت میں پیش کرتے ہوئے انکوائری کمیشن کے ٹی او آر پڑھ کر سنائے۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ وزارت دفاع میں سے کسی کو کمیشن میں کیوں شامل نہیں کیا گیا۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ تمام صوبائی حکومتیں اور وفاقی حکومت اس کمیشن سے تعاون کرنے کی پابند ہیں۔ کمیشن کو مزید وقت درکار ہوا تو وفاقی حکومت وجوہات ریکارڈ کر کے مزید وقت دے گی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ کمیشن آنکھوں میں دھول بھی بن سکتا ہے اور نیا ٹرینڈ بھی بنا سکتا ہے، پیمرا حکومت اور اداروں کو ڈیوٹی بتائی تھی وہ نظرثانی میں آگئے تھے۔ ہم صرف اپنے تحفظات بتا رہے ہیں۔

ابصار عالم نے کمیشن پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیا 2 ریٹائرڈ افسران سابق ڈی جی آئی ایس آئی، چیف جسٹس یا وزیر اعظم کو بلا سکیں گے، اس پر شک ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کے شک کی بنیاد کیا ہے۔ آپ دو مہینے بعد کمیشن کا کام دیکھ کر جو کہنا ہوا کہہ سکتے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں آپ کے خدشات غلط ثابت ہوں۔ ابصار عالم نے کہا کہ میں اسی امید پر انتظار کروں گا۔

بعد ازاں چیف جسٹس نے فیض آباد دھرنا کیس میں آج کی سماعت کا حکمنامہ لکھوایا اور سماعت 22جنوری تک ملتوی کر دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے