English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کے درمیان اقتدار اور طاقت کی جنگ/فہمیدہ یوسفی

القمر
یہ تحریر ہم سب اردو میں شائع ہوئی
نومبر 2023 میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو نے بلوچستان میں موجود عسکریت پسند تنظیموں میں انضمام کے لیے مذاکرات کے حوالے سے بتایا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اور بلوچستان لبریشن آرمی میں انضمام کے حوالے سے اتفاق ہوا ہے تاہم قیادت اور تنظیم کے نام کا فیصلہ ہونا باقی تھا۔
بلوچ لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر اور بلوچ لبریشن آرمی کے کمانڈر بشیر زیب نے بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کے انضمام کے حوالے سے اس خبر کی بی بی سی کو تصدیق بھی کی تھی۔
بلوچ عسکریت پسندوں کی جانب سے اس مبینہ انضمام کو تجزیہ کاروں کی جانب سے ریاست کے لیے ایک بڑے چیلینج کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
تاہم آپس کے اختلافات اور مفادات کے باعث یہ انضمام اتنا آسان نظر نہیں آ رہا اور نا ہی مستقبل میں یہ ممکن ہو سکے گا، کیونکہ اس وقت بلوچستان میں مختلف بلوچ عسکریت تنظیموں کے کمانڈرز کے درمیان طاقت اور اقتدار کے لیے لڑائیوں کی کہانیاں تیز رفتاری سے منظر عام پر آ رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق اب بشیر زیب کی زیر کمان بلوچ لبریشن آرمی (اچھو گروپ) کی قیادت اپنے ان منحرفین کا بدلہ لینے کے لیے تیار ہے جنہوں نے براس (BRAS) کے پلیٹ فارم پر ڈاکٹر اللہ نذر کے بلوچ لبریشن فرنٹ کے ساتھ تعاون کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
یہاں حیران کن بات یہ ہے کہ بلوچ لبریشن آرمی (اچھو گروپ) کے سربراہ بشیر زیب نے بلوچ لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر کے ساتھ انضمام کے حوالے سے کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے تصدیق کی تھی۔
لیکن 24 فروری 2024 کو ایران کی سراوان کاؤنٹی میں ماسٹر رفیق عرف دینار کا قتل بلوچ لبریشن فرنٹ کے لیے حالیہ دنوں میں سب سے بڑا دھچکا ہے۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ماسٹر رفیق بلوچ لبریشن فرنٹ کے دوسرے درجے کے رہنما تھے اور پنجگور اور ہوشاب کے علاقوں میں بلوچ لبریشن فرنٹ کی توسیع میں اہم کردار ادا کر رہے تھے
ماسٹر رفیق بلوچ کے بارے میں ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ماسٹر رفیق ایران میں ہندوستانی ہینڈلرز سے براہ راست رابطے میں تھے اور رقم کی ہموار ترسیل کا ذمہ دار تھے۔ جبکہ انہوں نے 2021 / 2022 میں افغانستان سے نئے ہتھیاروں اور جدید نائٹ ویژن کی خریداری میں بھی مدد کی تھی۔
یہی وہ وقت تھا جب ماسٹر رفیق افغانستان کے صوبہ ہرات میں بلوچ لبریشن آرمی کی سینئر قیادت کی نظروں میں آ گئے۔
اس دوران براس کے دوبارہ قیام کا نکتہ بھی زیر بحث آیا اسی انضمام کے حوالے سے دونوں عسکریت پسند جماعتوں کے کمانڈرز کی جانب سے حامی بھی بھر لی گئی تھی۔
لیکن بلوچ لبریشن آرمی کی قیادت نے بلوچ لبریشن فرنٹ کے کمانڈروں کے بارے میں سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے اسے مسترد کر دیا۔
دوسری طرف فروری 2022 میں نوشکی اور پنجگور میں کامیاب دہشتگردانہ کارروائیوں کے بعد ڈاکٹر اللہ نذر کی براس کو دوبارہ منظم کرنے کی خواہش مزید خاک میں مل گئی۔
ایک جانب تو بلوچ لبریشن آرمی (اچھو گروپ) کے مالی معاملات زیادہ آسانی سے چلنے لگے تو دوسری جانب بلوچ لبریشن فرنٹ کے مالی حالات خراب ہو گئے
سال 2023 میں فنڈز کی کمی کی وجہ سے بلوچ لبریشن فرنٹ میں کچھ کمانڈرز نے اس تنظیم سے انحراف کیا۔
ان منحرف کمانڈرز کے مطابق مشترکہ فورم براس کو دوبارہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ بلوچ لبریشن فرنٹ کی قیادت کی طرف سے فنڈنگ کو راغب کیا جا سکے۔
براس سے منسلک ایک اور اہم ہلاکت بھی ایران کی سراوان کاؤنٹی میں ذرائع کے مطابق 18 فروری کو ہوئی جب نامعلوم مسلح افراد نے کمانڈر رضوان کو قتل کر دیا۔
سرفراز بگلزئی کے ہتھیار ڈالنے کے بعد رضوان دہشت گرد تنظیم بی این اے کی سالمیت کو برقرار رکھنے کی کوششیں کر رہا تھا۔ واضح رہے کہ سرفراز بگلزئی نے گلزار امام شمبے کی جگہ لی تھی۔
ذرائع کے مطابق رضوان نے گلزار امام کے بھائی ناصر امام کو 2019 میں ہتھیار ڈالنے کے بعد دوبارہ دہشت گردی کی طرف راغب کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا اور وہ گلزار امام اور بی این اے کے دیگر افراد کو ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
جبکہ رضوان نے رازق کے ساتھ ہوشاب کے علاقے میں ناصر امام سے کئی بار ملاقات کی اور انہیں بلوچ لبریشن آرمی (اچھو گروپ) میں شامل ہونے کے لیے قائل کیا تاکہ وہ بڑے کھیل کا حصہ بنیں۔
لیکن بلوچ لبریشن آرمی (اچھو گروپ) کے لیے ناصر امام کو واپس بھرتی کرنے میں رضوان کا کردار ڈاکٹر اللہ نذر کو معلوم ہو گیا۔
تاہم سرفراز بلگلزئی کے ہتھیار ڈالنے کے بعد جب کہ پنجگور، تربت اور آواران میں بی این اے کے کمانڈر بلوچ لبریشن آرمی (اچھو گروپ) اور بلوچ لبریشن فرنٹ میں شامل ہو رہے تھے۔
رضوان نے بی این اے کی سالمیت کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ وہ زیادہ کامیابی حاصل نہیں کر سکے کیونکہ بہت سے کمانڈر پہلے ہی بلوچ لبریشن آرمی کے ساتھ اتحاد کر چکے تھے۔ اس صورتحال میں رضوان کے پاس صرف مٹھی بھر جنگجوؤں کا ساتھ تھا۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بی ایل اے کے مچھ حملے اور انتخابات 2024 سے پہلے اور اس کے دوران 100 سے زائد حملوں کی ناکام سیریز کے بعد ، رضوان نے مشکے کے گاؤں سنہری سے اپنے پرانے جاننے والے کمانڈر عبید کے ذریعے بلوچ لبریشن آرمی کے ساتھ انضمام کے لیے روابط قائم کیے تھے۔
فروری 2023 میں رازق نے بلوچ لبریشن فرنٹ کو رضوان کے ساتھ پرانا حساب بے باق کرنے کا موقع فراہم کیا۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ آواران کی تحصیل مشکی کے علاقے میہی کے رہائشی کمانڈر محراب حکیم اور ڈاکٹر اللہ نذر کے قریبی رشتہ دار نے رضوان عرف بی کے کو قتل کیا۔
اس قتل نے نہ صرف بلوچ لبریشن آرمی (اچھو گروپ) کی مرکزی قیادت کو ناراض کیا ہے بلکہ بلوچ لبریشن آرمی (اچھو گروپ کی قیادت کی ہدایات کے خلاف براس میں شامل ہونے والے بلوچ لبریشن آرمی کے مقامی کمانڈروں کے درمیان بھی اختلافات پیدا کر دیے ہیں۔
اب تازہ ترین صورتحال اس وقت کچھ یوں ہے کہ بلوچستان میں دہشت گرد تنظیموں کے اندر بلوچ لبریشن آرمی (اچھو گروپ ) کی اشرافیہ کی حیثیت اور اس کے کمانڈرز کی اجارہ داری بلوچ عسکریت پسندوں کے مختلف دھڑوں کے درمیان تیزی سے تنازعات اور اختلافات کا باعث بنتا جا رہا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر امکان نظر آ رہا ہے کہ بلوچ مسلح تنظیموں میں یہ اندرونی اختلافات اور دراڑیں آپس میں ایک دوسرے کے خلاف انتقامی کارروائیوں میں مزید مسلح بلوچ کمانڈرز کی ہلاکتوں کا سبب بن سکتی ہیں۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے