English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ڈان نیوز رپورٹ/ پاکستان میں سوشل میڈیا پر پابندی کی قراداد اور بنیادی انسانی حقوق

القمر
جہاں صارفین میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ​​ٹویٹر) پر ایک پندرہ دن سے مسلسل خلل پڑنے پر شدید تحفظات ہیں، وہیں پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے ایک رکن نے تمام سوشل میڈیا پر مستقل پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی ٹکٹ پر سینیٹر بننے والے بہرامند تنگی نے اپنی قراد داد میں فیس بک، ٹک ٹاک، انسٹا گرام، یوٹیوب اور ایکس پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔
سینیٹ سیکریٹریٹ کے ایجنڈے میں قرارداد کو شامل کیا گیا ہے، جس پر ایوان بالا میں دو روز بعد بحث کرے گا۔
قرارداد میں کہا گیا کہ ’سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ملک کی نوجوان نسل پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
’سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہمارے مذہب، ثقافت کے خلاف اصولوں کو فروغ دینے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں اور عوام میں مذہب اور زبان پر نفرت پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔‘
قرارداد میں "افواج پاکستان کے خلاف منفی اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے کے ذریعے ملکی مفادات کے خلاف ایسے پلیٹ فارمز کے استعمال” پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور سینیٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فیس بک، ٹک ٹاک، انسٹاگرام، پر پابندی لگانے کے لیے حکومت سے سفارش کرے۔ X، اور YouTube نوجوان نسل کو ان کے منفی اور تباہ کن اثرات سے بچانے کے لیے۔
یہ قرارداد ایسے وقت میں جمع کروائی گئی جب ملک بھر میں ایکس (سابقہ ٹوئٹر) کی سروسز کی فراہمی میں رکاوٹ ہے۔
گذشتہ برس پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں حکومت کو سوشل میڈیا ویب سائٹس کو بلاک کرنے کی سفارش کی تھی۔
انہوں نے حکومت کو متحدہ عرب امارات اور چین کی طرز پر سوشل میڈیا ویب سائٹس کو بلاک کرنے کا کہا۔
بعد ازاں پی ٹی اے نے ایک وضاحتی بیان میں اس کی تردید کر دی تھی۔
ینیٹر بہرامند تنگی نے کہا ’میڈیا سے منسلک افراد سیاسی جماعتوں کے لیے کھل کر کام کرتے ہیں اور خود کو صحافی بھی کہتے ہیں۔
’یہ شرم کی بات ہے کیونکہ سوشل میڈیا کی وجہ سے ان کا پروپیگنڈا چلتا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اگر 60 فیصد افراد بھی ان ویب سائٹس کا درست استعمال کرتے تو ٹھیک تھا لیکن ملک میں اتنے زیادہ افراد اس کا غلط استعمال کرتے ہیں۔
’یہ ممکن ہے کہ ایوان اس معاملے پر مکمل طور پر انکار کر دے لیکن بطور پاکستانی اس قرارداد کو اپنے ملک، اداروں اور بچوں کے لیے جمع کروانا میرا حق ہے۔‘
ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی چیئر پرسن نگہت داد نے اس حوالے سے کہا ’اس طرح کی قرارداد آئین پاکستان کے آرٹیکل 19، جو آزادی اظہار رائے کے حق سے متعلق ہے، کا مذاق اڑاتی ہے۔
’یہ آئین کا مذاق بنانے کے مترادف ہے کیونکہ یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ دنیا پلیٹ فارمز پر پابندی لگانے سے بہت آگے جا چکی، وہ آن لائن نقصان دہ مواد سے نمٹنے کے لیے دوسرے جدید طریقے تلاش کر رہے ہیں۔
’یہ اس ملک کے عوام کی بدقسمتی ہے کہ یہاں کے قانون ساز ایسی قراردادیں پیش کر رہے ہیں جس سے ہمارے حقوق کی پامالی ہو رہی ہے بلکہ دنیا میں اس ملک میں رہنے والوں کا مذاق بنا رہے ہیں۔‘
انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان دنوں سینیٹ میں ایسی قرارداد کون پیش کر سکتا ہے؟
ڈیجیٹل حقوق پر کام کرنے والے ادارے ’بولو بھی‘ کی شریک بانی فریحہ عزیز نے کہا ہر مسئلے کا حل ’بندش‘ کو سمجھنا تنگ نظری ہے، مسائل کو مناسب طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کسی بھی پلیٹ فارم پر مکمل طور پر پابندی لگانا غیر آئینی ہے اور ان کو اسی بنیاد پر چیلنج بھی کیا جاتا رہا ہے اور عدالتوں نے بھی مانا کہ یہ عمل غیر آئینی ہے۔
انہوں نے پیکا قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’سیکشن 37 پر سول سوسائٹی کو شدید تحفظات ہیں کہ اس قانون کو نہیں ہونا چاہیے، حتیٰ کہ یہ قانون بھی ویب سائٹس کی مکمل بندش کا اختیار نہیں دیتا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اس طرح کے blanket ban لگا بھی دیے جاتے ہیں۔‘
فریحہ نے کہا ماضی میں اس طرح کی قرارداد پارلیمان اور درخواستیں عدالتوں میں جاتی رہی ہیں۔
’نہ یہ پہلی بار ہو رہا ہے اور نہ آخری بار ہوگا۔ چند افراد یا ادارے اس بات کا فیصلہ نہیں کر سکتے کہ تمام افراد کیا دیکھ سکتے ہیں اور کیا نہیں۔
’یہ پلیٹ فارم تعلیم اور آمدنی کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ایوان میں اس کی مخالفت کی جانی چاہیے جو بہت ضروری ہے۔‘
گذشتہ دنوں میں ایکس کی بندش کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا جس کے بعد عدالت نے اس کی بلاتعطل فراہمی کا حکم دیا تھا۔
یاد رہے صارفین کی اکثریت پلیٹ فارم تک رسائی کے لیے VPNs استعمال کر رہی ہے۔ حکام کا مذاق اڑانے والی متعدد پوسٹس ہیں، یہاں تک کہ نگراں وزیر آئی ٹی عمر سیف کا بھی وی پی این استعمال کرنے پر، کیونکہ حالیہ ٹویٹس میں ان کا موجودہ مقام ہانگ کانگ کے طور پر دکھایا گیا ہے۔
لیکن ابھی تک، کسی اتھارٹی نے X کی خدمات کو محدود کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، جسے کارکنان ایک خطرناک رجحان کے طور پر دیکھتے ہیں۔
شفقنا اردو
اتوار، 3 مارچ 2024
شفقنا نے  یہ رپوٹ ڈان نیوز اور انڈی پینڈنٹ اردو سے مشترکہ طور پر لی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے