English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

 طالبان کے حکم پر7,000 اہل کاروں کے ساتھ امدادی کام کرنے والے سویڈش گروپ نے اپنی سرگرمیاں معطل کردیں

افغانستان کے لیے انسانی ہمدردی کے ایک بڑے غیر ملکی گروپ، سویڈش کمیٹی فار افغانستان(SCA)نے ملک میں اپنی تمام امدادی کارروائیاں معطل کر دی ہیں۔ گروپ نے یہ اقدام طالبان کے اس حکم نامےکے بعد کیا جس میں ان سے ملک میں اپنی سر گرمیاں روک دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

ایس سی اے نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ طالبان حکومت نے یہ حکم نامہ گزشتہ سال اسٹاک ہوم میں قرآن کو نذر آتش کرنےکے ردعمل میں جاری کیا تھا۔افغان حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

غیر سرکاری گروپ، SCA نے ایک بیان میں کہا، "ہم موجودہ صورت حال پر انتہائی افسردہ ہیں اور ہماری معطلی کے اثرات ان لاکھوں لوگوں پر پڑیں گے جو گزشتہ چار عشروں میں ہماری خدمات سے مستفی ہوئے ہیں۔”

ایس سی اے کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے نمائندے طالبان حکام کے ساتھ بات چیت کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ صورت حال کو حل کیا جا سکے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ان لوگوں کی ضروریات پوری ہوں جن کے لیے وہ کام کر رہے ہیں۔


افغانستان میں امدادی خوراک کی تقسیم۔ فائل فوٹو

افغانستان میں امدادی خوراک کی تقسیم۔ فائل فوٹو

امدادی گروپ نے زور دے کر کہا وہ ایک غیر جانبدار ادارہ ہے جس کا سویڈش حکومت یا کسی بھی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسے عطیہ دہندگان کے ایک وسیع حلقے سے فنڈز وصول ہوتے ہیں۔

ایس سی اے نے سویڈن میں قرآن کے نسخوں کو جلانے سے خود کو الگ کرتے ہوئے اس کاروائی کی مذمت کی۔

بیان میں کہا گیا کہ "قرآن کی بے حرمتی دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کی توہین ہے جو اس مقدس متن کو اپنے دلوں میں عزیز رکھتے ہیں، اور یہ اسلامی عقیدے پر ایک کھلا حملہ ہے۔”


بیشتر مسلمان ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی ان واقعات پر شدید احتجاج ھوا تھا، 9 جولائی، 2023 کو لاہور میں نکالی جانے والی ایک ریلی،(اے پی فوٹو)

بیشتر مسلمان ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی ان واقعات پر شدید احتجاج ھوا تھا، 9 جولائی، 2023 کو لاہور میں نکالی جانے والی ایک ریلی،(اے پی فوٹو)

تنظیم نے کہا کہ وہ افغانستان کے 16 صوبوں میں اپنے تقریباً سات ہزار اہل کاروں کے مستقبل کے بارے میں ” انتہائی فکر مند” ہے جن میں سے بہت سے اپنے خاندانوں کے واحد کفیل ہیں، اور اگر انہوں نےاپنی ملازمتیں کھو دیں، تو ہزاروں خاندان متاثر ہوں گے۔”

گزشتہ سال افغانستان بھر سے 25 لاکھ مریضوں نے علاج کےلیے SCA کے کلینکس اور اسپتالوں سے رجوع کیا، اوربچوں سمیت ہزاروں دوسرے لوگ، ذرائع معاش میں مدد اور تعلیم کے پروگراموں سے مستفید ہوئے۔

اگست 2021 میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سے طالبان کی جانب سے مقامی خواتین امدادی کارکنوں پر پابندیوں کے ایک سلسلے کی وجہ سے افغانستان میں انسانی امدادی شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔


افغان ٹیلی وژن طلوع کے ایک پروگرام میں بنفشا بینش اور وحیدہ حسن شریک ہیں۔ 8 فروری 2022

افغان ٹیلی وژن طلوع کے ایک پروگرام میں بنفشا بینش اور وحیدہ حسن شریک ہیں۔ 8 فروری 2022

اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ افغانستان میں 24 لاکھ سے زیادہ شہریوں کو انسانی امداد کی ضرورت ہے، جو برسوں کی جنگ اور قدرتی آفات کی لپیٹ میں ہیں۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد سے انسانی ہمدردی سے متعلق حالات مزید خراب ہو گئے ہیں۔

انسانی حقوق سے متعلق خدشات،خاص طور پر افغان خواتین کی تعلیم اور کام تک رسائی پر پابندیوں نے بین الاقوامی برادری کو طالبان حکومت کو تسلیم کرنے سے روک رکھا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے