مظفر آباد: مہنگائی اور بجلی کے بلز میں بے جا اضافے کے خلاف مظاہرے پھوٹ پڑے، جس میں جھڑپوں کے دوران پولیس اہلکار جاں بحق ہوگیا جب کہ 20 اہل کار زخمی ہوئے ہیں، پولیس نے 100 سےزیادہ افراد کو گرفتار کرلیا ہے اور احتجاجی مظاہرے بڑھنے سے حالات کشیدہ ہو گئے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آزاد جموں و کشمیر میں مہنگائی اور بجلی کے بلوں میں اضافے کے خلاف احتجاج بڑھتےبڑھتے جھڑپوں میں تبدیل ہوگیا۔ اس دوران پولیس نے مشتعل مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی جس سے جھڑپیں پھوٹ پڑیں اور فائرنگ کے دوران پولیس سب انسپکٹر جاں بحق ہوگیا۔
عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے احتجاج کی دی گئی کال کے دوران مہنگائی کے ستائے عوام نے لانگ مارچ کے دوران کئی مقامات پر مظاہرے کیے۔ اس دوران میرپور میں ہونے والی جھڑپوں سے وہاں حالات کشیدہ ہو گئے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق اسلام گڑھ کے علاقے میں پولیس کی جانب سے احتجاج کرنے والے مظاہرین کو روکنے کے لیے آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے، اس دوران شیل فائر کیے جانے سے 2 افراد زخمی ہو گئے۔
بعد ازاں پولیس اور احتجاجی مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے واقعات شروع ہو گئے اور فائرنگ کے ایک واقعے میں تھانہ اسلام گڑھ کے ایس ایچ او گولی لگنے سے شدید زخمی ہو گئے۔ کشیدہ حالات کے دوران آزاد کشمیر کے کوٹلی، سہسنہ اور ریہاں سمیت دیگر علاقوں میں احتجاجی مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم کی اطلاعات ہیں جب کہ مظاہروں کے دوران ایک سرکاری گاڑی کو جلانے کا واقعہ بھی پیش آیا ہے جب کہ پولیس مشتعل افراد کو روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کررہی ہے۔
اسی دوران پولیس اور مظاہرین کے مابین جھڑپوں میں گولی لگنے سے سب انسپکٹر عدنان قریشی جاں بحق ہوگئے۔ پولیس نے کارروائیاں کرتے ہوئے 100 سے زیادہ افراد کو گرفتار کرلیا ہے اور متاثرہ علاقوں میں بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔

