English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حکومت نے عدالتی حکم پر موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی قائم کردی

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے موسمیاتی تبدیلی ایکٹ 2017 کے تحت ملک کی پہلی ’’کلائمیٹ چینج اتھارٹی‘‘ قائم کردی۔

وزارت موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی رابطہ کے ایک نوٹیفکیشن کے مطابق، اتھارٹی پاکستان موسمیاتی تبدیلی ایکٹ نمبر 2017 کے سیکشن 5 کے ذیلی سیکشن (1) کے تحت تشکیل دی گئی تھی۔

جسٹس اطہر من اللہ، جسٹس سید منصور علی شاہ اور جسٹس محمد علی مظہر پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے موسمیاتی تبدیلی کے وجودی خطرے کو اجاگر کرنے کے لیے پبلک انٹرسٹ لاء ایسوسی ایشن آف پاکستان کی درخواست پر اپنے فیصلے میں وفاق کو حکم دیا تھا۔ حکومت گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی انحطاط کے خطرے سے نمٹنے کے لیے موسمیاتی تبدیلی کی اتھارٹی قائم کرے گی۔

موسمیاتی تبدیلی کے ایکٹ 2017 کے مطابق، موسمیاتی وزارت کے وزیر انچارج اتھارٹی کے قیام کے لیے ذمہ دار ہیں  ۔

ایکٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اتھارٹی کا ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں ہوگا اور وہ ضرورت کے مطابق دیگر مقامات پر اپنے دفاتر قائم کر سکتی ہے۔

اتھارٹی میں چیئرپرسن، ممبر (ایڈپٹیشن)، ممبر (تخفیف)، ممبر (کلائمیٹ فنانس)، ممبر (کوآرڈینیشن) اور ہر صوبے سے ایک ممبر شامل ہوگا جو متعلقہ صوبائی وزراء انچارج کے ذریعہ نامزد کیا جائے گا۔

اتھارٹی کے چیئرپرسن سمیت ممبران کا تقرر ان کی اہلیت اور تجربے کے پیش نظرپر  وزیر اعظم ان شرائط و ضوابط پر کریں گے جو وہ مناسب سمجھیں گیں  ۔

چیئرپرسن اور ممبران سائنس دان، ماہرین تعلیم، پیشہ ور، حاضر سروس یا ریٹائرڈ سرکاری ملازمین، صنعت کار، ماہرین زراعت اور ٹیکنو کریٹس ہوں گے جن کے پاس ایک ممتاز سروس ریکارڈ کے ساتھ موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیات سے متعلق شعبوں میں کم از کم پندرہ سال کا تجربہ ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے