کابل : وسطی افغانستان میں شدید بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہو گئے ۔
مرکزی صوبہ غور کے محکمہ اطلاعات کے سربراہ مولوی عبدالحئی زعیم نے بتایا کہ جمعے سے شروع ہونے والی بارش کے دوران ان افراد کے زخمی ہونے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں تھی ،سیلاب سے علاقے کی کئی اہم سڑکیں بھی منقطع ہو گئی ہیں۔
زعیم نے مزید کہا کہ صوبے کے دارالحکومت فیروز کوہ میں 2,000 مکانات مکمل طور پر تباہ، 4,000 کو جزوی نقصان پہنچا اور 2,000 سے زائد دکانیں زیر آب آگئیں۔
حکام نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے، شدید بارشوں کی وجہ سے آنے والے سیلاب نے شمالی افغانستان میں دہی علاقوں کو تباہ کر دیا، جس میں 315 افراد ہلاک اور 1,600 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے ۔
ملکی وزارت دفاع نے کہا کہ افغان فضائیہ کے زیر استعمال ایک ہیلی کاپٹر صوبہ غور میں دریا میں لوگوں کی لاشیں نکالنے کی کوشش کرتے ہوئے “تکنیکی خرابی ” کی وجہ سے گر کر تباہ ہو گیا، جس میں شخص ایک ہلاک اور 12 افراد زخمی ہو گئے ۔
افغانستان قدرتی آفات کا شکار ہے اور اقوام متحدہ اسے موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرے سے دوچار ممالک میں سے ایک سمجھتا ہے۔
2021 میں غیر ملکی افواج کے ملک سے انخلا کے بعد طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان کو امداد کی کمی کا سامنا کرنا پڑا تھا ، کیونکہ ترقیاتی امداد جو کہ حکومتی مالیات کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی تھی، کم کر دی گئی تھی۔
غیر ملکی حکومتیں عالمی بحرانوں اور افغان خواتین پر طالبان کی جانب سے پابندیوں کی بڑھتی ہوئی مذمت کی وجہ سے امداد میں مزید کمی کر دیں جس سے افغانستان میں کومزید درپیش مسائل کا سامنا کرنا پڑا ۔a

