لاہور:امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں پاکستانی طلبہ وطالبات کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ طلبہ نے پاکستان کے سفارتی عملے کی سستی اور مایوس کن رویے کی شکایت کی ہے۔ طلبہ و طالبات کے والدین شدید پریشانی میں مبتلا ہیں،بشکیک سمیت کرغزستان کے مختلف شہروں میں زیر تعلیم طلبہ وطالبات کو فی الفور محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ محصور طلبہ کا خاندانوں سے رابطہ کروایاجائے، وزیراعظم اور وزیرخارجہ معاملے کی نزاکت کو سمجھیں اور فوری طور پر ایکشن لیں۔
بشکیک سے پاکستانی طلبہ کی جانب سے رابطہ اور صورت حال سے آگاہی کے بعد میڈیا کو جاری بیان میں امیر جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے طلبہ سے عدم رابطہ اورعدم تعاون قابل تشویش ہے۔وطن سے دور طلبہ و طالبات کی حفاظت ریاست کی ذمے داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالات کو کنٹرول نہ کیا گیا تو تشدد مزید شہروں میں پھیلنے کا خدشہ ہے۔ پاکستانی طلبہ کی بڑی تعداد اوش،جلال آباد اور قانت میں بھی موجود ہے۔ایشین میڈیکل اکیڈمی قانت میں بھی پاکستانی طلبہ شدید خوف کا شکار ہیں،حکومت ایشین یونیورسٹی آف کرغزستان میں طلبہ و طالبات کے لیے حفاظتی اقدامات کا بندوبست کرے۔
حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ کرغزستان میں عدم تحفظ کی وجہ سے طلبہ وطالبات شدید خوف اور پریشانی میں مبتلا ہیں۔ اصل صورتحال کافی تشویشناک ہے، طلبہ کے مطابق سفارتخانے کا ردعمل اب تک مایوس کن رہا ہے،طلبہ کی زندگیاں داؤ پر لگی ہیں، انہیں مشکل سے نکالنے اور تحفظ فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

