English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ عوام میری سزا کی تائید کریں گے: ٹرمپ

امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ 2016 کے انتخابی نتائج پر غیر قانونی طور پر اثر انداز ہونے کی کوشش کے جرم میں ممکنہ طور پر قید کی سزا کا سامنا کر سکتے ہیں۔ تاہم وہ اس بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ آیا عوام اس بات کی تائید کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے 2016 کے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔

انہوں نے "فاکس اینڈ فرینڈز ویک اینڈ” کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ان کے خیال میں عوام کے لیے اسے قبول کرنا مشکل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ایک خاص نقطہ "بریکنگ پوائنٹ” ہوتا ہے۔

البتہ ٹرمپ نے اپنی سوچ کی وضاحت نہیں کی کہ عوام ایسی صورت حال میں کس طرح کا ردِّ عمل ظاہر کرسکتے ہیں۔

واضح رہے کہ نیویارک کی ایک جیوری نے گزشتہ ہفتے ٹرمپ کو ایک مقدمے میں مجرم قرار دیا تھے۔

اس مقدمے میں ان پر الزام تھا کہ انہوں نے پورن اسٹار سٹارمی ڈینئیلز کو ان کے ساتھ افیئر پر خاموش رہنے کے لیے اپنے سیاسی فکسر مائیکل کوہن کے ذریعے ایک لاکھ 30ہزار ڈالر کی رقم ادا کی گئی رقم کو حساب کتاب میں کارپوریٹ کے خرچ کے طور پر ظاہر کیا تھا۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ’ہش منی‘ کیس میں قصوروار قرار





please wait



No media source currently available

پانچ ہفتوں کی گواہی سننے کے بعد نیویارک کی ایک جیوری نے ٹرمپ کو ان تمام 34 سنگین الزامات کا مجرم قرار دیا کہ انہوں نے اس ادائیگی کو چھپا رکھا تھا۔

ٹرمپ کو، جنہیں ری پبلکن پارٹی کا اس سال کے صدارتی انتخاب کے لیے متوقع امیدوار کہا جاتا ہے، سزا سنانے کی تاریخ 11 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

سزا سنانے کی تاریخ ری پبلکن نیشنل کنونشن کے آغاز سے کچھ دن ہو گی۔

توقع کی جارہی ہے کہ اس کنونشن میں ری پبلکنز ٹرمپ کو نومبر کے انتخابات کے لیے صدر جو بائیڈن کے مدمقابل امیدوار نامزد کریں گے۔

ٹرمپ مجرمانہ ٹرائل کا سامنا کرنے والے پہلے امریکی صدر ہیں اور انہیں پروبیشن پر رکھے جانے یا چار سال تک قید کی سزا کے امکان کا سامنا ہے۔


سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 34 الزامات کے تحت مجرم قرار دیا گیا ہے جب کہ سزا کا اعلان 11 جولائی کو کیا جائے گا۔

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 34 الزامات کے تحت مجرم قرار دیا گیا ہے جب کہ سزا کا اعلان 11 جولائی کو کیا جائے گا۔

دریں اثنا، ٹرمپ کے وکیل ول شارف نے امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی کے ’دس ویک‘ شو کو بتایا کہ "مجھے نہیں لگتا کہ صدر ٹرمپ کو کسی بھی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔”

وکیل نے کہا کہ ٹرمپ کی قانونی ٹیم اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کے لیے تیار ہے۔

شارف نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی سپریم کورٹ تک صدر ٹرمپ کے حقوق کو درست ثابت کرنے کے لیے اپیل کی جائے گی۔

ستتر سالہ ٹرمپ نے کہا کہ کئی حوالوں سے مقدمے کی سماعت ان سے زیادہ ان کے خاندان کے لیے مشکل تھی۔

انہوں نے اپنی اہلیہ، سابق خاتون اول میلانیا ٹرمپ پر اس کے اثرات پر افسوس کا اظہار کیا جنہوں نے عدالتی کارروائی نہیں دیکھی۔

ٹرمپ کے تینوں بچے مقدمے کی سماعت کے دوران موجود تھے۔


سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات، 30 مئی 2024 کو نیویارک کے، مین ہٹن کرمنل کورٹ میں 34 فوجداری جرائم میں قصور وار پائے جانے کے بعد میڈیا سے بات کرنے لیے عدالت سے باہر آتے ہوئے۔اے پی فوٹو

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ جمعرات، 30 مئی 2024 کو نیویارک کے، مین ہٹن کرمنل کورٹ میں 34 فوجداری جرائم میں قصور وار پائے جانے کے بعد میڈیا سے بات کرنے لیے عدالت سے باہر آتے ہوئے۔اے پی فوٹو

ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ اس کیس کے مربوط کرنے میں بائیڈن کے زیرِ انتظام وائٹ ہاؤس کا ہاتھ تھا حالاں کہ انہوں نے اس سلسلے میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔

سابق صدر کے خلاف یہ مقدمہ نیویارک کے پراسیکیوٹر ایلون بریگ نے دائر کیا تھا، جو ڈیموکریٹ تو ہیں لیکن وہ وفاقی قانون نافذ کرنے والے اہلکار نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے