English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جیل میں مجھے تو مئی جون میں ایک ڈرم میں رکھا جاتا تھا، جاوید لطیف

لاہور: مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماء میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ گزشتہ روز جیل کی تصویریں دیکھیں جو کسی فائیو اسٹار ہوٹل سے کم نہیں لگتیں لیکن مجھے تو مئی جون کے مہینے میں ڈرم میں رکھا جاتا تھا۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنماء جاوید لطیف نے سوال کیا کہ کیا پاکستان کے اندر 9 مئی کرنا جرم نہیں، کسی کو گڈٹو سی یو اور مجھے سیسیلین مافیا اور گاڈ فادر کہا جائے، منصوبہ سازوں کے نام پبلک نہیں کیے جا رہے بلکہ دعوت دی جا رہی ہے تاکہ دوسرا 9 مئی ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا میں کہتا ہوں بانی پی ٹی آئی پر جتنے ناجائز مقدمے ہیں فوری ختم کیے جائیں، ملک میں قانون تبدیل کر دیں عدت کا قانون تبدیل کر دیں،  کسی خاص کے لیے قانون نہیں عام کے لیے سولی پر لٹکا دو کا قانون ہے۔

رہنمان لیگ کا کہنا تھا 190ملین پانڈ کوئی جرم نہیں مگر موبائل چھیننا بہت بڑا جرم ہے، میں نے لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے سامنے فریاد کی تو مجھے کہا گیا تم اداروں کے خلاف، ایجنسیوں کے متعلق بات کرتے ہو، مجھے کہا گیا تمہیں تو سنگسار کر دینا چاہیے تھا۔

میاں جاوید لطیف کا مزیدکہنا تھا کہ میری پیشی پر تو کرفیو لگا دیا جاتا تھا۔مجھے کہا گیا تم پابندیاں برداشت نہیں کر سکتے تو پاکستان چھوڑ دو، کیا میں پاکستانی نہیں تھا ؟ مجھے تو مئی جون کے مہینے میں جیل میں ڈرم کے اندر رکھا جاتا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے