کراچی: سندھ کے تمام بڑے شہروں میں بارش سے اربن فلڈنگ کا خطرہ ہے. چیف سیکرٹری سندھ نے خطرے کی گھنٹی بجادی۔
تفصیلات کے مطابق ممکنہ طوفانی بارشوں کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اجلاس میں بتایا گیا کہ جولائی تا ستمبر معمول سے زیادہ بارشیں متوقع ہیں، بارش اور گلیشیئر پگھلنے سے 5 سے 9 لاکھ کیوسک پانی دریائے سندھ میں آسکتا ہے۔
چیف سیکرٹری سندھ کا کہناہے کہ محکمہ ریلیف تمام اداروں کو موسمیات اور انتظامات پر انتظامیہ کو آگاہی دیتا رہے گا، دریائے سندھ کے کچے کے لوگوں کو بھی صورتحال سے آگاہ رکھا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر کے ادویات کی فراہمی یقینی بنائے۔اس کے علاوہ وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے بحالی کے کاموں میں بلدیاتی نمائندوں کو شامل کرنے کی ہدایت کر دی۔
چیف سیکریٹری کا مزید کہنا تھا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ریلیف کیمپ یوسی سطح پر بنائے جائیں گے، راشن، ٹینٹ اوردیگرضروری سامان کوضلع سطح پرگوداموں میں رکھا جائے۔ حیدرآباد میں واسا کو فنڈز جلد فراہم کئے جائیں گے۔

