اٹلی : غیر قانونی طریقے سے اٹلی جانے والے تارکین وطن کی اطالوی آبی علاقے کے قریب 2کشتیوں کے ڈوبنے سے 12 افراد ہلاک ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق کشتیاں کئی درجن تارکین وطن کو لے کر اطالوی ساحل کے راستے یورپ کی طرف جا رہی تھیں۔
جرمن امدادی گروپ ریسک شپ نے کہا کہ ڈوبتی کشتی سے 51 افراد کو نکالا جن میں 10 افراد کی لاشیں تھیں جو کشتی کے نچلے حصے میں پھنس کر ہلاک ہو گئے تھے ۔ زندہ بچ جانے والوں کو اطالوی کوسٹ گارڈ کے حوالے کر دیا گیا ۔
اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر ، عالمی ادارہ برائے مہاجرت اور اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونیسیف نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ کشتی لیبیا سے روانہ ہوئی تھی، جس میں شام، مصر، پاکستان اور بنگلہ دیش کے تارکین وطن سوار تھے۔
ایجنسیوں نے بتایا کہ دوسری کشتی کا واقعہ اطالوی علاقے کلابریا سے تقریباً 200 کلومیٹر مشرق میں پیش آیا، یہ کشتی ترکی سے روانہ ہوئی تھی جو آگ لگنے کے سبب الٹ گئی ۔
ان کا کہنا تھا کہ 64 افراد سمندر میں لاپتہ ہیں جن میں 11 افراد کی لاشوں کو اطالوی کوسٹ گارڈ نکال کر ساحل پر پہنچا دیا ہے ۔
اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے کہا کہ دوسرے جہاز کے تباہ ہونے والے تارکین وطن ایران، شام اور عراق سے آئے تھے۔
ان واقعات نے وسطی بحیرہ روم کی ساکھ کو دنیا کے سب سے خطرناک نقل مکانی کے راستوں میں سے ایک کے طور پر تسلیم کیا۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2014 سے اب تک 23,500 سے زیادہ تارکین وطن ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے یورپی یونین کی حکومتوں سے بحیرہ روم میں تلاش اور بچاؤ کی کوششوں کو تیز کرنے اور قانونی اور محفوظ نقل مکانی کے ذرائع کو بڑھانے کا مطالبہ کیا، تا کہ تارکین وطن “سمندر میں اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے پر مجبور نہ ہوں”۔

