English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ملک کو آگے جانا ہے تو سب کچھ پرائیوٹ سیکٹر کے حوالے کرنا پڑے گا ،وزیرخزانہ

القمر

کمالیہ (صباح نیوز)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ اگر ملک کو آگے جانا ہے تو سب کچھ پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرنا پڑے گا، اور اگر ملک کو ریلیف چاہیے تو حکومت کا جتنا بوجھ ہے، اسے کم کرنا ہوگا۔پنجاب کے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تحصیل کمالیہ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کاشتکاروں اورکاروباری شخصیات سے ملاقاتیں ہوئیں، انہوں نے اپنی اچیومنٹس اور مسائل کے بارے میں آگاہ کیا، بجٹ کے حوالے سے کچھ باتیں کروں
گا۔ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں کچھ اصول اور پرنسپلز کی بات کی تھی، ان کو دہرانا چاہوں گا، پہلی بات تو ہے کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی 9.5 فیصد ہے، یہ سسٹین ایبل نہیں ہے، بار بار کہتا ہوں کہ خیرات سے اسکول، یونیورسٹیاں اوراسپتال تو چل سکتے ہیں، ملک صرف ٹیکس سے چل سکتے ہیں، ٹیکس ٹو جی ڈی پی کو بتدریج 13.5 فیصد پر لے کر جانا پڑے گا۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اس کے مختلف اقدامات ہیں کہ ہم اس کو وہاں لے کر کیسے جائیں گے، پہلا تو جو ریونیو اقدامات کا اعلان کیا گیا، اس میں یہ تھا کہ وہ تمام شعبے جو پہلے ڈائریکٹ ٹیکس کی مد میں نہیں تھے، انہیں اس میں لایا جائے، دوسرا یہ تھا کہ گزشتہ برس 39 کھرب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی گئی، ہمیں اس چھوٹ کو ختم کرنا ہے۔محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں ہم باقی سیکٹرز کو ٹیکس نیٹ میں لا رہے ہیں، 31، 32 ہزار ریٹیلرز رجسٹرڈ ہو چکے ہیں اور جولائی سے ان پر ٹیکس کا اطلاق ہوگا۔انہوں نے کہا کہ فرض کریں کہ پی ڈبلیو ڈی بند کردیتے ہیں، اس کے براہ راست ساڑھے 3، 4 ارب روپے کے اخراجات ہیں، جو بجٹ ہم نے پیش کیا ہے، اس میں تو یہ معمولی رقم ہے، یہ رقم نہیں بچی ہے، اصل میں بچت یہ ہوئی ہے کہ جو منصوبے یہ ہینڈل کرتے ہیں، اس میں سے کتنا خرچ ہوتا ہے، کتنا کرپشن کی مد میں جاتاہے، قومی خزانے کو اصل نقصان یہ ہے، اصل لاگت یہ ہے کہ جو رقم ہم مختص کرتے ہیں، اس میں سے کتنی خوردبرد ہو جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نہ صرف اخراجات پر غور کر رہے ہیں بلکہ وفاقی سطح پر اس کو کم کریں گے اور بڑے مناسب اقدامات آپ کو اگلے ایک، ڈیڑھ مہینے میں پتا چلیں گے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اویس لغاری پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیز کے کارپوریٹ بورڈز کو تبدیل کرنے جا رہے ہیں، حکومتی نمائندوں کو کم کیا جا رہا ہے، نجی شعبے کو لایا جا رہا ہے، ڈسکوز کے چیئرمین پرائیویٹ لوگ ہوں گے، یہ آسان کام نہیں ہے، میرا اپنا اندازہ ہے کہ جتنا ہم اسے نجی شعبے کے سپرد کرتے جائیں، اتنا ہی بہتر ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے