English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

روسی صدر کی 24برس بعد شمالی کوریا آمد، اہم معاہدے پر دستخط

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کا ہوائی اڈے پر استقبال کررہے ہیں

پیانگ یانگ (انٹرنیشنل ڈیسک) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن 24برس بعد شمالی کوریا کے دورے پر پہنچ گئے ،جہاں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ نے ان کا استقبال کیا۔ پیوٹن کے ساتھ ان کی کابینہ کے بیشتر ارکان روسی وفد کا حصہ ہیں، جو کم جونگ اْن کے ساتھ بات چیت کریں گے۔روسی صدر پیوٹن کا شمالی کوریا کا آخری دورہ جولائی 2000 ء میں پہلی بار اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد ہوا تھا۔ اس وقت کم جونگ ان کے والد کم جونگ ال ملک کے سربراہ تھے اور ملک 1990 ء کی دہائی میں شدید قحط سالی سے بمشکل ہی نکل پایا تھا۔ کم جونگ اْن نے گزشتہ برس روس کا غیر معمولی دورہ کیا تھا، جس کے دوران انہوں نے اور پیوٹن نے خلائی ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر زور دیا تھا۔خبررساں اداروں کے مطابق دارالحکومت پیانگ یانگ پہنچنے پر کم جونگ ان نے ان کا شاندار خیر مقدم کیا۔ بعد میں دونوں رہنماؤں کی میٹنگ شروع ہوئی۔ شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے نے دونوں ممالک کی شراکت داری کو نئی کثیر قطبی دنیا کی تعمیر میں تیز رفتاری کے لیے محرک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیوٹن کے دورے سے باہمی تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات تاریخی واقعہ ہے ،جس سے شمالی کوریا اور روس کے درمیان دوستی اور اتحاد کی پائیداری ظاہر ہوتی ہے۔کم جونگ ان سے ملاقات میں پیوٹن نے کہا کہ روس امریکا اور اس کے اتحادیوں کی تسلط پسندانہ اور سامراجی پالیسیوں کے خلاف لڑ رہا ہے۔ انہوں نے یوکرین سمیت روسی پالیسی کے لیے شمالی کوریا کی طرف سے حمایت کے لیے کم کی تعریف کی اورامریکی دباؤ اور دھمکیوں کے خلاف شمالی کوریا کی حمایت کا اعلان کیا۔ دونوں ممالک نے دفاع اور دیگر امور سے متعلق تعلقات کو مضبوط بنانے کے معاہدے پر دستخط بھی کیے،تاہم اس معاہدے کی تفصیلات منظر عام پر نہیں لائی گئیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے