اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے صدارتی آرڈیننس کا نفاذ موجودہ قانون سازی کی روشنی میں “پارلیمنٹ کی توہین” قرار دے دیا ۔
لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے الیکشن ٹربیونلز کی تشکیل کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان کی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے قاضی فائزعیسیٰ نے کہا صدارتی آرڈیننس پارلیمنٹ کی توہین ہے، یہ پہلے ہی ایک قانون بن چکا ہے ۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کیس کی سماعت کی جس میں جسٹس نعیم اختر افغان بھی شامل ہیں۔
ای سی پی نے لاہور ہائی کورٹ کے 29 مئی کے فیصلے کے خلاف آئین کے آرٹیکل 185(3) کے تحت سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جس میں اس نے 8 الیکشن ٹربیونلز تشکیل دیے تھے۔
لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ملک شہزاد احمد پر مشتمل عدالت کے سنگل رکنی بنچ کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ جسٹس شاہد کریم، جسٹس چودھری محمد اقبال، جسٹس انوار حسین اور جسٹس سلطان تنویر احمد پرنسپل سیٹ پر انتخابی درخواستوں کی سماعت کریں گے۔
لاہور ہائیکورٹ بہاولپور بنچ میں جسٹس عاصم حفیظ انتخابی درخواستوں کی سماعت کریں گے، جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس راحیل کامران لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ اور جسٹس مرزا وقاص رؤف لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ میں انتخابی درخواستوں کی سماعت کریں گے۔
یہ حکم راؤ ہاشم عمر خان اور دیگر کی جانب سے دائر درخواستوں کے جواب میں آیا اس میں ای سی پی کو یہ بھی حکم دیا تھا کہ وہ الیکشن ٹربیونلز کے طور پر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے نامزد کردہ6 مزید ججوں کی تقرری کرے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پنجاب میں 8 میں سے دو الیکشن ٹربیونلز پہلے ہی کام کر رہے تھے۔

