English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حماس ایک نظریہ ہے جسے ختم نہیں کیا جا سکتا،ترجمان اسرائیلی فوج

غزہ: خان یونس کے ناصر اسپتال میں غذائی قلت کا شکار ایک فلسطینی بچہ زیر علاج ہے

مقبوضہ بیت المقدس/جینیوا(مانیٹرنگ ڈیسک+خبرایجنسیاں) اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ حماس ایک نظریہ ہے جسے ختم نہیں کیا جا سکتا،حماس کو مٹانے کی باتیں لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ریئر ایڈمرل ڈینئیل ہگاری نے حماس کی تعریف کرتے ہوئے ساڑھے 8 ماہ کی مسلسل بمباری کے باوجود حماس کو ختم نہ کرپانے پر اپنی ناکامی کو تسلیم کرلیا۔انہوں نے کہا کہ ہم حماس کے مکمل خاتمے کے لیے اب بھی پْرعزم ہیں،اگر حماس کا متبادل نہ لایا گیا تو حماس ہمارے لیے درد سر بنی رہے گی۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ یہ درست ہے ہم حماس کے حوالے سے اپنا ایک ہدف بھی پورا نہیں کر سکے بلکہ اب تک اپنے یرغمالیوں کو حماس کی قید سے بازیاب کرانے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔اسرائیلی فوج کے ترجمان کے اس بیان پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری ردعمل میں کہا گیا ہے کہ ایسے ہر بیان کو مسترد کرتے ہیں، حماس کو تباہ کرکے دم لیں گے۔جس پر اسرائیلی فوج نے اپنے ترجمان کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ریئر ایڈمرل ہگاری نے حماس کو ایک نظریے کے طور پر بیان کیا ہے جو واضح اور بالکل صاف بات ہے۔ خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے اپنے دفاع اور قومی سلامتی کے وزیر سمیت کئی اہم اتحادیوں کے ساتھ بھی غزہ جنگ پر اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔حال ہی میں نیتن یاہو کو ان اختلافات کی وجہ سے اپنی جنگی کابینہ کو تحلیل کرنا پڑا تھا اور اب اسرائیلی فوج کے اپنے وزیراعظم کے ساتھ نااتفاقی اور اختلاف بھی سامنے آگیا۔ادھر اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ میں جنگی قوانین کی متعدد بار خلاف ورزی کی اور وہ غزہ تنازع میں شہریوں اور جنگجوؤں کے درمیان فرق کرنے میں ناکام رہے ہیں۔غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے کمیشن آف انکوائری کے سربراہ نے اسرائیلی فوج کے اقدام کو فلسطینیوں کا ’قتل عام‘کہا۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر) نے 6 اسرائیلی حملوں کے بارے میں ایک رپورٹ (جس میں عام شہریوں کی ہلاکتوں سمیت بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا گیا)، میں کہا کہ ہوسکتا ہے، اسرائیلی فورسز نے ان حملوں میں ’امتیاز، تناسب اور احتیاط کے اصولوں‘ کی منظم خلاف ورزی کی۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر وولکر ترک نے کہا کہ جنگ کے دوران ایسے ذرائع اور طریقہ کار کو استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جس سے شہریوں کو محفوظ رکھا جائے یا پھر ان کا کم سے کم نقصان ہو، لیکن اسرائیلی بمباری میں ان تمام چیزوں کی مسلسل خلاف ورزی ہوتی رہی ہے۔جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ایک الگ اجلاس میں اقوام متحدہ کے کمیشن آف انکوائری کے سربراہ ناوی پلے نے کہا کہ اسرائیل بین الاقوامی قانون کے تحت سنگین ترین خلاف ورزیوں کا ذمے دار ہے جسے ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کہا جاتا ہے، انہوں نے کہا کہ فلسطینی شہریوں کے نقصانات کا پیمانہ ’تباہی‘ کے مترادف ہے۔ان کاکہنا تھا کہ ہم نے محسوس کیا ہے کہ غزہ میں شہریوں کی بے تحاشہ ہلاکتیں اور شہری اشیا اور بنیادی ڈھانچے کی وسیع پیمانے پر تباہی جان بوجھ کر ایک حکمت عملی کے تحت کی گئی ہے۔مزید برآں غزہ کے مکینوں کے خلاف اسرائیلی فوج کی دہشت گردی جاری ہے ،تازہ حملوں میں مزید20 فلسطینی شہیداور 55زخمی ہو گئے۔عرب میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے وسطی غزہ کے علاقے نصیرات اور دیر البلاح میں مہلک ہتھیاروں، ٹینکوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے کرکے بے گھر فلسطینیوں کے خیموں کو نشانہ بنایا اورامداد کے منتظر فلسطینیوں پر اسرائیلی بمباری کی جس سے 9 افرادشہید،30 زخمی ہوئے۔رپورٹس میں بتایا گیا کہ خان یونس میں صہیونی فوج نے یورپی ہسپتال کو بھی نشانہ بنایا، ان حملوں میں 11 فلسطینی شہید اور 25 شدید زخمی ہوگئے، اسرائیلی فوج کی ظالمانہ کارروائی میں24گھنٹوں کے دوران 24 شہادتوں کی اطلاعات ہیں جبکہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران اب تک فلسطینی شہدا کی مجموعی تعداد 37 ہزار 431 اور 85ہزار653افراد زخمی ہوچکے ہیں۔واضح رہے رفاہ میں10لاکھ پناہ گزینوں میں سے صرف 65ہزار فلسطینی باقی بچے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے