اسلام آباد: قومی اسمبلی میں وزیر دفاع خواجہ آصف کی تقریر کے دوران سنی اتحاد کونسل کے اراکین کی جانب سے شدید شور شرابہ اور احتجاج کرتے ہوئے فاٹا آپریشن بند کرو کے نعرے لگائے ۔
ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفی کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا، اجلاس کے آغاز پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے قرارداد ایوان میں پیش کی، اس میں مطالبہ کیا گیا کہ اقلیتوں کے خلاف کارروائی کرنے والوں کو سزا دی جائے، اقلیتوں کو تحفظ دیا جائے، اقلیتوں کی حفاظت کو وفاقی اور صوبائی حکومتیں یقینی بنائیں۔
ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی غلام مصطفیٰ شاہ کی زیر صدارت ہونے والے بجٹ سیشن کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف تقریر کرنے کھڑے ہوئے تو سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے ایوان میں احتجاج کیا اور فاٹا آپریشن بند کرو کے نعرے لگانا شروع کر دیئے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان میں اقلیتوں کے لئے اٹھنے والی آواز کا گلا گھونٹا جارہا ہے، اقلیتوں کا کبھی سوات کبھی سرگودھا کبھی فیصل آباد میں قتل ہوتا ہے، مذہب کے نام پر خون بہانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، پاکستان میں مسلمانوں کے چھوٹے فرقے اور کوئی مذہبی اقلیت محفوظ نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن ہمیں گالیاں نکال رہی ہے، ابھی کل والی گالی کا مسئلہ حل نہیں ہوا یہ مزید گالیاں دے رہے ہیں، اپوزیشن گالی اور تشدد کی سیاست کرنا چاہتی ہے، پاکستان میں کوئی مذہبی اقلیت محفوظ نہیں، ہمارے اندر چھوٹے فرقے موجود ہیں وہ بھی محفوظ نہیں ، یہ ایسی بات ہے کہ سب کو شرمسار ہونا چاہیے مگر ان کو شرم و حیا نہیں آرہی ہے۔
اپوزیشن کے جانب سے دوران تقریری چور چور اور فارم 47 کے بھی نعرے لگتے رہے ، شور شرابے سے ایوان میں افرا تفری پھیلی ہوئی تھی ۔
پی ٹی آئی کو اعتراض ہے تو تب اس پر بات کرسکتے ہیں، آج یہ اس ایوان میں مظاہرہ کرکے دہشت گردوں کے ساتھ کھڑے ہیں، فوج کیخلاف مظاہرہ کررہے ہیں، لیکن یہ آج بھی 9مئی والے ہیں کل بھی 9مئی والے تھے اور آنے والے کل بھی 9مئی والے ہوں گے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا ایپکس کمیٹی پشاور آرمی اسکول واقعے کے بعد وجود میں آئی تھی، ایوان میں اس موضوع پر بحث کریں گے، جب یہ مسئلہ ہاؤس میں آئے گا تو یہ لوگ بھی اس مسئلے پربول سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف اپنی سیاست کے ساتھ ہیں، یہ ملک اور آئین کے ساتھ نہیں، میں چہرے جانتا ہوں جنہوں نے ہم سے ٹکٹ مانگا تھا، کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے۔

