نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں ماؤنوازوں نے بھارتی فوج کا ٹرک بم سے اُڑادیا۔خبررساں اداروں کے مطابق نکسل باغیوں کے حملے میں نیم فوجی دستے سینٹرل ریزرو پولیس فورس کی کمانڈو بٹالین کے 2اہلکارہلاک ہوئے،جن کی شناخت 29 سالہ شیلندرا اور 35 سالہ وشنو کے ناموں سے ہوئی ۔ دونوں آر یس سی آر پی ایف کمانڈو بٹالین فار ریزولوٹ ایکشن کوبرا کی 201 ویں بٹالین کا حصہ تھے۔ کارروائی کے دوران نکسل باغیوں نے ٹرک کو گھات لگا کر دیسی ساختہ بم سے نشانہ بنایا،جس سے فوجی ٹرک مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور اس میں آگ بھڑک اْٹھی۔ حملہ آور بھارتی فوج کا اسلحہ بھی ساتھ لے گئے۔ دوسری جانب فوجی ٹرک پر بم دھماکے کی اطلاع ملتے ہی بھاری نفری کو طلب کرلیا گیا اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ، تاہم اس دوران کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی۔ واضح رہے کہ بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں نکسل علاحدگی پسند بھارت سے آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کر رہے ہیں اور مقامی وسائل سے دارالحکومت کو فائدہ پہنچانے کے بجائے اسی علاقے میں تعمیر و ترقی کا مطالبہ کرتے ہیں۔بھارت میں نکسلی تشدد کی شروعات 1967ء میں مغربی بنگال کے نکسل باڑی سے ہوئی جس سے اس تحریک کو اس کا نام ملا۔ اس سے منسلک لوگوں کو ماؤنواز بھی کہا جاتا ہے۔ مشرقی اور شمال مشرقی بھارت کے کئی حصوں میں نکسلی گروہوں کا اثر ہے ، جن میں جھارکھنڈ، مغربی بنگال، اڑیسا، بہار، چھتیس گڑھ اور آندھرا پردیش جیسی ریاستیں شامل ہیں۔
