اسلام آباد: پاکستان میں عام انتخابات مبینہ انتخابی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے حوالے سے امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد پر ردعمل دیتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے امریکی قرارداد کے مقابلے میں قرارداد لانے کا اعلان کردیا۔
اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، وزیراعظم شہباز شریف بھی قومی اسمبلی ایوان میں موجود ہیں اور خارجہ پالیسی اور پاکستانی الیکشنز سے متعلق امریکی قرارداد پر بات ہوئی۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہم امریکی قرارداد کے مقابلے میں قرارداد ضرور لائیں گے، امریکی قرارداد کا سخت نوٹس لیا ہے اور اس حوالے سے قومی اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے کے لیے مسودہ تیار کرلیا، قرارداد کا مسودہ اپوزیشن کے ساتھ بھی شیئر کریں گے۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم نے کہا کہ فلسطینیوں کے خلاف جنگ فوری بند ہونی چاہیئے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت نے فلسطین کے مسئلے پر آواز نہیں اٹھائی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم بھی چاہتے ہیں اوورسیز پاکستانیوں کو ان کے حقوق ملیں، اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ سے متعلق ن لیگ نے کہا تھا انہیں دونوں ایوانوں میں نمائندگی ملنی چاہیے۔ایوانوں میں نمائندگی ملنی چاہیے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر کئی بار کام کرنے کی کوشش کی، ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکی پابندیاں بڑا مسئلہ ہے، پاکستان عالمی سطح پر تنہائی کا شکار نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ خارجہ پالیسی پر ایوان کا خصوصی اجلاس بلانے کی تجویز مناسب ہے، بجٹ اجلاس کے بعد خارجہ پالیسی پر بحث کے لیے اجلاس بلا لیا جائے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد پر وزیر خارجہ نے دفتر خارجہ کا رد عمل ایوان میں پڑھ کر سنایا،ہم امریکی ایوان نمائندگان کی قرارداد کے جواب میں قرارداد لائیں گے، قرارداد کا مسودہ تیار ہے۔

