بدین/تھرپارکر (نمائندہ جسارت)تھر کول شاہرا پر کھوسکی بائی پاس کے مقام پر ایک ٹریفک حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور دو زخمی ہو گئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق، لوڈر مزدا اور ٹریکٹر سے کمپنی کی وی ایٹ گاڑی ٹکرا گئی۔حادثے میں جاں بحق ہونے والا شخص اینگرو کول مائننگ کمپنی کے کراچی ہیڈ آفس کے جی ایم کمرشل فہیم احمد تھے، جبکہ ڈپٹی سمیت دو افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر انڈس اسپتال بدین منتقل کر دیا گیا، جہاں سے ایک شخص کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ملی۔ ایس ایچ او کھوسکی منظور نھڑیو کے مطابق، جاں بحق ہونے والے کول کمپنی کے عملدار کراچی سے آفیشل وزٹ کے لیے تھر کول سائٹ آئے تھے اور واپسی پر یہ حادثہ پیش آیا۔حادثے کے بعد پولیس نے گاڑیوں کو راستے سے ہٹا کر ٹریفک کو بحال کر دیا ہے۔ حادثے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔حادثے کے زخمیوں کی حالت زار بتائی جاتی ہے ۔حادثے کے زخمیوں کے لئے نہ ایمبولینس موجود تھی اور نہ ہی قریبی ٹاؤن ہسپتال کھوسکی میں ڈاکٹر اور عملہ موجود تھا۔ اس کے باعث کئی زخمیوں کو حادثے کے مقام سے کھوسکی ہیلتھ سینٹر اور پھر وہاں سے ڈسٹرکٹ اسپتال انڈس بدین ایک پک اپ ڈالے کے ذریعے منتقل کیا گیا۔ حادثات کے شکار افراد کی فوری مدد کے لیے حکومت سندھ کی جانب سے شروع کی گئی ریسکیو سروس بھی کارگر ثابت نہ ہو سکی۔ مقامی باسیوں کے مطابق ایمبولینسز صرف شہری علاقوں میں دکھاوے کے لئے موجود ہوتی ہیں، جبکہ اربوں روپے کا سالانہ بجٹ نہ جانے کہاں خرچ ہوتا ہے۔ عوامی خدمت کے لئے حکمرانوں اور سیاسی شخصیات کے دعوے دعوؤں تک ہی محدود رہ گئے ہیں۔ ظلم کی بات یہ ہے کہ 1122 کی ایمبولینس سروس بھی سفارش پر دستیاب ہوتی ہے۔عام مریضوں کو کراچی یا حیدرآباد ہسپتال منتقل ہونے کے لئے ہمیشہ اپنے خرچ پر ایمبولینس حاصل کرنی پڑتی ہے۔ بااثر افراد اور شخصیات کے فون اور سفارش پر 1122 کی ایمبولینس گاڑیاں کراچی اور حیدرآباد کے لئے فراہم کی جاتی ہیں مگر عام زخمی یا غریب مریضوں کے لئے یہ سہولت دستیاب نہیں ہوتی۔پولیس کی جانب سے کی گئی مدد حادثے کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حادثے کا مقام صاف کر کے ٹریفک کو بحال کر دیا۔ ایس ایچ او کھوسکی منظور نھڑیو کے مطابق، حادثے کی وجوہات جاننے کے لئے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس نے حادثے میں ملوث تمام گاڑیوں کو قبضے میں لے کر مزید قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔
