پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کا امریکی کانگریس میں پاکستانی انتخابات کے حوالے سے منظور قرارداد پر کہنا ہے کہ اگر یہ حکومت رہ گئی تو لکھ لیں اگلے بجٹ میں غربت اور قرض مزید بڑھ جائیں گے، اخراجات بڑھ جائیں گے اور آمدن بہت کم ہو جائے گی۔
اڈیالہ جیل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الیکشن سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کو 5 ماہ گزر گئے لیکن مجھے ابھی تک یہ نہیں پتا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟ ملک میں الیکشن میں بے ضابطگیوں پر امریکی کانگریس نے قرارداد منظور کی ہے اور 85 فیصد کانگریس اراکین نے قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیا، دنیا میں سب سے بڑی اور طاقتور اسرائیلی لابی ہے وہ بھی آج تک ایسی قرارداد منظور نہیں کروا سکی۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پلڈاٹ، فافن اور پٹن کی رپورٹس میں دھاندلی کی تصدیق کی گئی، چیف الیکشن کمشنر کو دھاندلی کو کوور کرنے کے لیے لگایا گیا ہے۔
بانی پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ سارا ملک کہہ رہا ہے کہ فراڈ الیکشن کروایا گیا، ساری دنیا وہی کہہ رہی ہے جو کمشنر پنڈی اور سابق وزیراعظم کاکڑ نے حنیف عباسی کو کہا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ مخصوص نشستوں پر الیکشن کمیشن کا کردار دیکھے، کسی بھی جمہوریت میں ایک پارٹی کی سیٹ دوسرے کو نہیں دی جا سکتی، یہ کہیں نہیں ہوتا۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک کو صرف اوورسیز پاکستانیوں کی سرمایہ کاری ہی بچا سکتی ہے کیونکہ ان کے پاس ڈالرز پڑے ہیں، موجودہ حالات کے باعث پروفیشنل ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پارٹی میں اختلافات کی بنیاد غلط فہمی ہے، جمعرات کو دونوں گروپس کو ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل بلا لیا ہے، کچھ لوگوں نے تشدد کے باعث اور کچھ نے فائلیں دیکھ کر پارٹی چھوڑی، دونوں کے الگ الگ کیسز ہیں۔
صحافی نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ وزیراعظم سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں؟
جس پر عمران خان نے جواب دیا کہ کیا ہم شہباز شریف سے موسم پر مذاکرات کریں؟ اس کے پاس مذاکرات کے لیے ہے کیا کہ اس سے بات چیت کی جائے۔

