English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

فلسطین پر اسرائیلی قبضہ غیرقانونی ہے، فوری ختم کرے،عالمی عدالت

غزہ: دیر البلاح میں لوگ اسرائیلی حملے میں تباہ ہونے والی گاڑی کے پاس کھڑے ہیں،چھوٹی تصویر میںایک شخص اسرائیلی حملے کے بعد نصیرات پناہ گزین کیمپ کے ملبے سے کارآمد اشیاء تلاش کررہاہے

دی ہیگ /جنیوا /تل ابیب /غزہ (مانیٹرنگ ڈیسک+خبر ایجنسیاں) عالمی عدالت انصاف نے فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے علیحدہ اور خودمختار ریاست کا قیام فلسطینیوں کا اصولی حق قرار دیدیا دی ہیگ میں منعقدہ اجلاس میں عالمی عدالت انصاف نے کہا کہ عدالت اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں پر اپنی رائے دینے کا حق رکھتی ہے‘ 1958ء کے بین الاقوامی معاہدے کے تحت اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں شہریوں کے تحفظ سمیت انہیں پانی اور غذائی امداد پہنچانے کا پابند ہے، تاہم اسرائیل نے مقبوضہ علاقوں میں سنگین خلاف ورزیاں کیں۔ عدالت نے کہا کہ یہودی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کی جائدادوں پر جاری قبضے سے اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے، ساتھ ہی اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے شہریوں کو زبردستی بے دخل کرکے سنگین جرم کا ارتکاب کیا۔ عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کو رفح میں فوجی آپریشن روکنے کا حکم دیدیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا فلسطینیوں کے علاقوں پر جبری قبضہ کرکے اپنی اجارہ داری قائم کرنا جنیوا معاہدے کے آرٹیکل 53 اور 64 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے اسرائیل پر فلسطینیوں کے مقبوضہ علاقوں کے وسائل غصب کرنے کا الزام عاید کیا۔ عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ ٹھوس شواہد کے مطابق اسرائیل مغربی کنارے پر زبردستی اپنا تسلط قائم کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے‘عدالت مغربی کنارے میں اسرائیلی قوانین کے نفاذ کے حوالے سے دی گئی وجوہات اور دلائل سے قائل نہیں ہوئی۔عدالت نے کہا کہ اسرائیل نے مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں غاصبانہ انداز اپنایا ہوا ہے جیسے وہ اس کا علاقہ ہے، اسرائیل کی پالیسیوں اور کارروائیوں نے فلسطینیوں کے لیے حق خود ارادیت کے حصول کو انتہائی دشوار کر دیا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا فلسطینیوں کے ساتھ جاری برتاؤ نسل پرستی اور امتیازی سلوک کے زمرے میں آتا ہے، فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی کارروائیاں انسداد نسل پرستی معاہدے کے آرٹیکل 3 کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ اسرائیل نے 2009ء میں فلسطینیوں کے 11 ہزار سے زاید رہائشی یونٹس کو غیر قانونی قرار دے کر مسمار کردیا تھا، مقبوضہ بیت المقدس کو دیوار کی مدد سے تقسیم کرنے سمیت یہودی بستیاں قائم کرنے کا مقصد مغربی کنارے میں اسرائیلی تسلط کو مزید فروغ دینا ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت سمجھتی ہے قابض اسرائیلی حکومت فلسطینی قوم کو خودمختاری سے روک نہیں سکتی، اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے جلد از جلد اپنے قبضے کا خاتمہ کرے، اسرائیل فلسطینیوں کے علاقوں پر غیر قانونی طریقے سے موجود ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ عالمی عدالت انصاف اسرائیل کی طرف سے 1967ء کی حد بندی بشمول مشرقی بیت المقدس کی آبادیاتی تبدیلی کو تسلیم نہیں کرتی، تمام ممالک کو فلسطینیوں کی خودمختاری کے حصول کے لیے اقوام متحدہ کا ساتھ دینا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ علیحدہ اور خودمختار ریاست کا قیام فلسطینیوں کا حق ہے‘ اسرائیلی اور مقبوضہ علاقوں میں تفریق کرنا تمام ممالک کی ذمہ داری ہے، اسرائیل کو فلسطینیوں کے علاقوں پر قائم ناجائز قبضہ ختم کرنا ہوگا، تمام ممالک پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل اور آبادکاروں کے ناجائز قبضوں کو تسلیم نہ کرنے کی ذمہ داری عاید ہے۔ عدالت نے کہا کہ بین الاقوامی ادارے فلسطین کے مقبوضہ علاقوں پر اسرائیل کی اجارہ داری تسلیم نہ کریں، اقوام متحدہ فلسطینیوں کے مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی کارروائیوں کی روک تھام کے لیے اقدامات اٹھائے۔عدالت نے کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں کے مقبوضہ علاقوں میں آبادکاری کے منصوبوں کو روک کر پہلے سے قائم غیر قانونی بستیاں ختم کرے، اسرائیل تمام مقبوضہ علاقوں کے رہائشیوں کو پہنچنے والے نقصانات کا معاوضہ ادا کرے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کی فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف منظور ہونے والی قرارداد پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا ردعمل سامنے آگیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ اسرائیلی پارلیمنٹ کی فلسطینی ریاست کے خلاف منظور کردہ قرار داد سے شدید مایوسی ہوئی۔ یو این کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دجارک نے ان کے جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے کہا اس طرح ووٹ کے ذریعے 2 ریاستی حل کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکرٹری جنرل کے بقول فلسطین کا 2 ریاستی حل ہی ایسا پائیدار راستہ ہے جو اسرائیل اور فلسطینیوں کو امن اور استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اسرائیلی ٹینکوں کی رفح میں دوبارہ پیش قدمی شروع ہوگئی۔ وسطی و شمالی غزہ میں اسرائیلی طیاروں کی جانب سے بمباری کی گئی جہاں 24 گھنٹے میں مزید 50 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے۔اس کے علاوہ پناہ گزین اسکولوں اور خیموں پر حملوں میں گزشتہ 10 روز میں 500 فلسطینی شہید کردیے گئے۔اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر نے غزہ میں جاری قتل عام کو تاریخ کی بدترین نسل کشی قرار دے دیا۔ اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں سفارتخانوں کے قریب عمارت پر ڈرون حملے میں ایک شخص ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق تل ابیب میں امریکی سفارتخانے کے قریب عمارت پر ہونے والے ڈرون حملے کے بعد اٹھنے والے شعلوں کو دور سے دیکھا گیا۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ عمارت پر ہونے والے ڈرون حملے میں ایک شخص ہلاک اور 7 افراد زخمی ہوئے، زخمیوں کو طبی امداد کے لیے فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔اسرائیلی ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف) نے ڈرون حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حملہ حزب اللہ کے سینئر کمانڈر پر ہونے والے حملے کا بدلہ ہے، اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے سینئر کمانڈر کی ہلاکت ہوئی تھی۔ ادھر میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ یمن کے حوثیوں نے اسرائیل پر ڈرون حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ڈرون حملے کو 7 اکتوبر 2023ء میں ہونے والے حماس کے حملے کے بعد ایک بڑی کارروائی قرار دیا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے