ڈھاکا( مانیٹرنگ ڈیسک )بنگلا دیش میں کوٹاسسٹم کے خلاف احتجاج میں شدت‘ فورسز سے جھڑپوں میں105افراد ہلاک‘سیکڑوں زخمی ہوگئے‘زخمیوں میں 100سے زاید پولیس اہلکار بھی شامل ملک بھر میں کرفیو نافذ‘ فوج طلب کرلی گئی ‘طلبہ اور عوام نے اجتماع اور جلسوں پر پابندی کو مسترد کردیا‘ بڑی تعداد میں گھروں سے نکل آئے‘ احتجاج ملک کے دیگر شہروں میںپھیلنے لگا‘انٹرنیٹ سروس‘ تعلیمی وسرکاری ادارے بند‘ عوام نے حسینہ واجد کی تقریرریکارڈ اور نشر کرنے والے سرکاری ٹی وی کی عمارت کو آگ لگادی‘ وسطی بنگلا دیشی ضلع نرسنگدی میں مشتعل افراد کا جیل پر دھاوا‘قیدیوں کو رہاکرنے کے بعد جیل کو آگ لگادی گئی‘ دارالحکومت ڈھاکا کے علاوہ رنگ پور اور چٹاگانگ میں بھی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ۔ پولیس کا لاٹھی چارج، ربڑ کی گولیاں چلائیں اور آنسو گیس کے گولے داغے۔بنگلادیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے مظاہرین کوپاکستانی حامی قراردے دیا۔تفصیلات کے مطابقبنگلا دیش میں کشیدہ حالات کے باعث وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے ملک بھر میں کرفیو نافذ کردیا جبکہ ملک میں کئی روز کے مظاہروں کے بعد فوج طلب کرلی گئی۔ بنگلادیشی وزیر اعظم حسینہ واجد نے کوٹہ سسٹم کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو ’رضاکار‘ قرار دیا۔خیال رہے کہ بنگلا دیش میں ’رضاکار‘ کی اصطلاح 1971 کی جنگ میں پاکستانی فوج کا ساتھ دینے والوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق بنگلا دیش میں حکومت نے احتجاج سے نمٹنے کے لیے ملک بھر میں کرفیو نافذ کرکے فوج کو طلب کرلیا ہے۔ بنگلا دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ملک میں کرفیو نافذ کرنے اور فوج طلب کرنے کا فیصلہ سول انتظامیہ کی مدد کے لیے کیا گیا ہے۔شیخ حسینہ واجد کے پریس سیکرٹری نعیم الاسلام خان نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ ’حکومت نے کرفیو نافذ کرنے اور سویلین حکام کی مدد کے لیے فوج کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘رواں ہفتے بنگلا دیش میں طلبہ مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 105 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، یہ مظاہرے 15 سال اقتدار میں رہنے کے بعد وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی آمرانہ حکومت کے لیے اہم چیلنج ہے۔اس سے قبل دارالحکومت ڈھاکا میں پولیس نے مزید تشدد کو روکنے کی کوشش میں ایک دن کے لیے تمام عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کرنے کا سخت قدم اٹھایا تھا۔پولیس چیف حبیب الرحمٰن نے بتایا تھا کہ ’ہم نے آج ڈھاکا میں تمام ریلیوں، جلوسوں اور عوامی اجتماعات پر پابندی لگا دی ہے۔تاہم اس اقدام اور ریلیوں کی تنظیم کو مایوس کرنے کے مقصد سے انٹرنیٹ کی بندش کے باوجود 2 کروڑ کی آبادی والے شہر میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم نہیں رک سکا۔ ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ طلبہ مظاہرین نے وسطی بنگلا دیشی ضلع نرسنگدی میں ایک جیل پر دھاوا بولا اور جیل کو آگ لگانے سے پہلے قیدیوں کو رہا کر دیا۔بنگلا دیش بھر میں سرکاری ٹی وی سمیت نیوز چینلز کی نشریات بند ہیں۔ البتہ انٹرٹینمنٹ چینلز کی نشریات دکھائی جا رہی ہیں۔ بدھ کو وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے بنگلا دیش کے سرکاری ٹی وی کی جس عمارت کے اسٹوڈیوز میں بیٹھ کر قوم سے خطاب کیا تھا اسے بھی طلبہ نے آگ لگادی۔ برطانوی خبر رساں ادارے نے بتایا ہے کہ بنگلا دیش کے سرکاری ٹی کی نشریات رکی ہوئی ہیں۔ سرکاری ٹی وی کی عمارت کے احاطے میں کھڑی ہوئی درجنوں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو بھی مظاہرین نے آگ لگادی۔ بنگلا دیش کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورت حال کے پیشِ نظر پاکستانی طلبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہاسٹل میں اپنے کمروں میں رہیں اور مظاہروں میں شریک نہ ہوں۔ بنگلا دیش کے متعدد شہروں میں تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔ سیل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی بند ہے۔ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے احتجاج کرنے والے طلبہ سے کہا ہے کہ حکومت کوٹا سسٹم کی بحالی کا ارادہ نہیں رکھتی اس لیے احتجاج ترک کیا جائے۔‘ڈھاکا میڈیکل کالج ہسپتال کی تیار کردہ فہرست کے مطابق جمعہ کو دارالحکومت میں کم از کم 52 افراد ہلاک ہوئے۔ہسپتال کے عملے کی طرف سے ’اے ایف پی‘ کو دی گئی تفصیلات کے مطابق رواں ہفتے اب تک رپورٹ ہونے والی نصف سے زیادہ اموات کی وجہ پولیس فائر تھی۔
