لاہور (نمائندہ جسارت)قائم مقام امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان کے بحرانوں کی سب سے بڑی بنیادی وجہ آئین کی پابندی کے بجائے انحراف اور پامالی ہے،پارلیمنٹ، عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قوتیں بیک وقت آئین کی بات کرتے ہیں لیکن آئین سے انحراف بھی ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر کرتے ہیں، حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قوتیں اپنے دھنوں میں الجھی ہوئی ہیں اور عوام کے لیے بدترین معاشی بحران کی وجہ سے زندگی گزارنا ناممکن ہوگیا،بجلی، پیٹرول کی قیمتیں اور گھریلو اشیا ضرورت کی ہوشربا قیمتیں گھر گھر فساد، مایوسی اور انارکی کا ذریعہ بن گئی ہیں،جماعت اسلامی 26 جولائی کو اسلام آباد میں قومی مسائل اور عوامی جذبات کا ترجمان دھرنا دے گی۔ جماعت اسلامی لاہور کے فلسفہ شہادت حسینؓ، پیر سید ہارون گیلانی سجادہ نشین دربار حضرت میاں میر کے زیر اہتمام پیغام کربلا، اتحادِ امت اور معروف سیاسی سماجی رہنما چودھری منظور حسین گوجر کی طرف سے سالانہ شہدا کربلا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ یزیدی طرزِ حکمرانی کے خلاف ہمیشہ اہل حق سچائی کا علم بلند رکھیں گے،امام حسینؓ شہید ہوگئے لیکن قیامت تک کے لیے غلبہ دین، اقامت دین اور سچائی و حق پرستی کی شاہراہ کا تعین کرگئے،میدان کربلا اور شہادت امام حسینؓ کا پوری امت کے لیے اتحاد و وحدت کا پیغام ہے، امت قرآن و سنت اور نظام حق پر متحد رہے تو کوئی باطل، کوئی ظالم حکمران امت پر غلبہ نہیں پاسکتا، پاکستان کے بحرانوں کی سب سے بڑی بنیادی وجہ آئین کی پابندی کے بجائے انحراف اور پامالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوم عاشور انسانی تاریخ اور اسلامی تاریخ میں بہت اہم اور تاریخی دن ہے ،امام حسینؓنے اپنے پورے خاندان کو قربان کردیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کی حفاظت ہو اور اسلام کے بنیادی اصولوں سے انحراف کرتے ریاستی نظام کے خلاف حق کی مزاحمت کا علم بلند کیا جائے،امام حسین ؓحق پر تھے اسی لیے آج وہ زندہ ہیں اور یزید جو باطل نظام کا علمبردار تھا وہ مٹ گیا اور رسوا ہوگیا،یزید کا اقتدار مسلط کرنا صریحاً غلط تھا اور نظام خلافت کو ملوکیت کی طرف دھکیلنا تھا۔انہوں نے کہا کہ امام حسینؓنے شہادت کا عظیم معیار اس لیے مقرر کیا کہ اسلامی ریاست کے مزاج، مقاصد اور دستور کی تبدیلی کو روکا جائے، اسلامی ریاست کے نظام کو طاغوت، باطل اور اللہ کے نظام کے انحراف سے روکنا تھا،ریاست کے بیت المال پر چوری، ڈاکا زنی، عیاشی کو بے نقاب کرنا اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے نظام کی حفاظت کرنا تھا،امام حسینؓشہید ہوگئے لیکن قیامت تک کے لیے غلبہ دین، اقامت دین اور سچائی و حق پرستی کی شاہراہ کا تعین کرگئے،یزیدی طرزِ حکمرانی کے خلاف ہمیشہ اہل حق سچائی کا علم بلند رکھیں گے۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ میدان کربلا اور شہادت امام حسینؓکا پوری امت کے لیے اتحاد و وحدت کا پیغام ہے، امت قرآن و سنت اور نظام حق پر متحد رہے تو کوئی باطل، کوئی ظالم حکمران امت پر غلبہ نہیں پاسکتا،عالم اسلام کے بحرانوں کے خاتمے کا واحد راستہ اتحاد امت ہے، عالم اسلام کے حکمران صرف اقتدار پر مسلط رہنے کو ہی وتیرہ نہ بنائیں، قرآن و سنت کی بنیاد پر نظام بنانا اور امت کو بحرانوں سے نکلنا ان کا فرض اولین ہے،فلسطین اور کشمیر کے مظلوموں کو ظلم اور استعماری قوتوں کی غلامی سے نجات دلانا عالم اسلام کے حکمرانوں کا انسانی اور اسلامی فرض ہے۔
