English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

مہنگائی کے ستائے عوام پر مزیدبجلی بم گرانے کی تیاری،قیمتوں میں اضافے کی درخواست نیپرا میں جمع

القمر

کراچی /اسلام آباد /لاہور (اسٹاف رپورٹر /آن لائن) مہنگائی کے ستائے عوام پر مزید بجلی بم گرانے کی تیاری کرلی گئی‘ قیمتوں میں اضافے کی درخواست نیپرا میں جمع کرادی گئی۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں بجلی کی تقسیم کار کمپنی کے الیکٹرک نے نیپرا میں بجلی 5 روپے 45 پیسے فی یونٹمہنگی کرنے کی درخواست جمع کروا دی۔ درخواست مئی اور جون کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دائر کی گئی۔ کے الیکٹرک نے مئی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 2 روپے 53 پیسے
فییونٹ اور جون کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 2 روپے 92 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی ہے۔نیپرا کی جانب سے من و عن منظوری سے صارفین پر 10 ارب روپے سے زاید کا بوجھ پڑے گا۔ نیپرا کے الیکٹرک کی درخواست پر 30 جولائی کو سماعت کرے گی۔ سرکاری ڈسکوز کے صارفین کے لیے مہنگی بجلی مزید مہنگی ہو گی‘ ایک ماہ کے لیے فی یونٹ قیمت2 روپے10پیسے تک اضافے کا امکان ہے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے درخواست نیپرا میں دائر کر دی۔ قیمتوں میں اضافہ ماہانہ فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مانگا گیا۔ نیپرا درخواست پر 31 جولائی کو سماعت کرے گا۔ مہنگی بجلی کی بڑی وجہ نجی پاور کمپنیوں کو ادا کیے جا رہے کیپسٹی چارجز ہیں لیکن وفاقی اورصوبائی حکومتیں بھی آئی پی پیز کی اس دوڑ میں شامل ہیں‘ بجلی پیدا کرنے والی22 سرکاری کمپنیاں کیپیسٹی چارجزکی48 فیصد حصے دار ہیں‘ ان کمپنیوں کوگزشتہ صرف 3 ماہ میں 169 ارب 36 کروڑ ادا کیے گئے ۔ دستاویزات کے مطابق واپڈا کے 21 بجلی گھر 21 فیصد کیپسٹی پر چل سکے لیکن اس نے 21 ارب 27 کروڑ کیپسٹی چارجز وصول کیے۔ کے پی کے حکومت کی ملکیت مالاکنڈ تھری بجلی گھر 40 فیصد کیپسٹی پر چلا مگر 100 فیصد جنریشن کیپسٹی کے لحاظ سے 20 کروڑ چارجز لیے‘ پنجاب حکومت کی ملکیت قائد اعظم تھرمل 42 فیصد چلا لیکن 11 ارب 52 کروڑ وصول کیے۔ پنجاب تھرمل پاور کمپنی کے بند بجلی گھر کو بغیر کسی یونٹ کے عوض 10ارب 64 کروڑ روپے ادا کیے گئے، پنجاب کا قائد اعظم سولر 16.3 فیصد چل کر 2 ارب 41 کروڑ لے گیا۔ وفاقی حکومت کی 3 جنکوزصرف 5.8 فیصد چل کر 5 ارب 95 کروڑ کیپسٹی چارجز لیے گئے‘ جھنگ اور بلوکی آر ایل این جی بجلی گھر 72 فیصد چلے‘ 15 ارب 73 کی وصولی کی۔ چشمہ نیوکلیئر کے 4 یونٹس 80 فیصد کیپسٹی پر چلے،37 ارب 33 کروڑ وصول کیے‘ کینیپ کو سب سے زیادہ 64 ارب 23 کروڑ ادا کیے گئے۔ سابق نگراں وزیر توانائی گوہر اعجاز نے آئی پی پیز کو کپیسٹی پیمنٹس کا ڈیٹا سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا جس کے مطابق آئی پی پیز کو رواں سال کے پہلے 3 ماہ میں 150ارب کی ادائیگی کی گئی۔ گوہر اعجاز نے کہا کہ آئی پی پیز میں آدھے 10 فیصد سے بھی کم کپیسٹی پر چل رہی ہے‘ 4 پاور پلانٹس بجلی پیدا کیے بغیر 10ارب روپے ماہانہ لے رہے ہیں‘ ہماری حلال کی کمائی 40 خاندانوں میں کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کی جاتی ہے‘ ان پاور پلانٹس کو پیسے تب ہی دیے جائیں جب بجلی پیدا کریں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے موجودہ پاور پرچیز ایگریمنٹ (پی پی اے) کا جائزہ لینے کے لیے وزیر بجلی سردار اویس لغاری کی سربراہی میں ایک بین وزارتی کمیٹی تشکیل دیدی جس کا مقصد نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی سرنگ کے گرنے کے نتیجے صارفین کے ٹیرف کے مسائل پر ایک رپورٹ مرتب کرنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پروجیکٹ کے ڈیزائن کی سنگین خرابیوں پر 2 رکنی کمیٹی نے ابتدائی رپورٹ پیش کردی ہے۔ حکومت بجلی کے مزید پیداواری منصوبے لگانے کے پروگرام سے پیچھے ہٹنے لگی‘ زیر تعمیر پن بجلی منصوبوں کو پہلی ترجیح اور بجلی کا نیا ترسیلی نظام بچھانے اور خرابیاں دور کرنے کو دوسری ترجیح قراردیدیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ زیر تعمیر پن بجلی منصوبوں کے علاوہ تھرمل ذرائع سے کوئی نیا منصوبہ نہیں لگے گا‘ حکومت کی طرف سے بجلی کی پیداواری صلاحیت توسیعی منصوبے پر عملدرآمد روکنے کا امکان ہے‘ زیر تعمیر پن بجلی منصوبوں سے مستقبل میں بجلی کی طلب پوری ہو جائے گی۔
مہنگائی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے