ڈھاکہ: حکومت کی جانب سے نوکریوں کے کوٹہ کے خلاف طلبہ کے احتجاج کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 100 سے تجاوز کرنے پر بنگلہ دیش کی فوج نے ہفتے کے روز ڈھاکہ کی سنسان سڑکوں پر گشت کیا۔
جمعرات سے انٹرنیٹ اور ٹیکسٹ میسج سروسز کی معطلی کے بعد پولیس کی جانب سے احتجاج پر کریک ڈاؤن جاری ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
ہفتے کے روز تک کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک بھر کے ہسپتالوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، اس ہفتے کے دوران کم از کم 105 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے ہیں۔ ڈھاکہ میڈیکل کالج ہسپتال نے جمعہ کی شام 5 بجے سے 7 بجے کے درمیان 27 لاشیں وصول کیں۔
ملک بھر میں شروع ہونے والے یہ احتجاجی مظاہرے سرکاری نوکریوں کے کوٹہ کے خلاف طلبہ کے غصے کے باعث شروع ہوئے۔
پچھلے پانچ دنوں کے دوران پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس اور ساؤنڈ گرینیڈز کا استعمال کیا، جبکہ مظاہرین نے سیکورٹی اہلکاروں پر پتھراؤ کیا اور گاڑیوں کو آگ لگادی۔
ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور پولیس کی ناکامی کے باعث وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت نے جمعہ کو ملک بھر میں کرفیو نافذ کر دیا اور فوج کو تعینات کیا۔
ٹی وی چینلز کے مطابق، کرفیومیں ہفتے کی دوپہر دو گھنٹے کے لئے نرمی کی جائے گی تاکہ لوگ ضروریات کی خریداری اور دیگر کام مکمل کرسکیں۔ کرفیو اتوار کی رات 10 بجے تک جاری رہے گا، جس کے بعد حکومت صورتحال کا جائزہ لے کر اگلے اقدام کا فیصلہ کرے گی۔

