English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سولر سسٹم اور نیٹ میٹرنگ کا مایا جال

پاکستان میں سولر سسٹم لگانے کا چلن اچانک شروع ہوا اور اچانک ہی شدت اختیار کرگیا، زور پکڑگیا۔ لوگ بجلی کے بلوں کے ایسے ستائے ہوئے ہیں کہ کسی نہ کسی طور اپنے بل پر، سورج کی مدد سے زیادہ زیادہ سے بجلی پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ مہنگی بجلی سے نجات ملے۔

یہ اچھی بات ہے کہ لوگ سولر سسٹمز کے ذریعے اپنے گھروں کی بجلی کی ضرورت پوری کرنا چاہتے ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس معاملے میں بھی توازن کا خیال نہیں رکھا جارہا۔ ملک بھر میں سوچے سمجھے بغیر بڑے گھریلو سولر سسٹم لگائے جارہے ہیں اور نیٹ میٹرنگ کے ذریعے فاضل بجلی آئی پی پیز کو دے کر اپنے لیے سستی یا مفت بجلی کا اہتمام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ لوگ چونکہ تمام متعلقہ معاملات کا جائزہ لیے بغیر سولر سسٹم لگارہے ہیں اس لیے ان کے معاملات میں خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ نیٹ میٹرنگ کا مطلب یہ ہے کہ گھریلو سطح پر سولر پینلز کے سسٹمز کے ذریعے تیار کی جانے والی بجلی گرڈ میں ڈال دی جائے۔ عوام سے بجلی وصول کرنے والے ادارے نیٹ میٹرنگ کے ذریعے اندازہ لگاتے ہیں کہ کس نے کتنی بجلی دی ہے۔ پھر اُس حاصل یا وصول شدہ بجلی کی بنیاد پر متعلقہ فرد کو، ضرورت کے مطابق، بجلی مفت یا بہت کم نرخوں پر فراہم کرنے کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

یہ سب کچھ بہت اچھا لگتا ہے کہ مگر چونکہ ہمارے ہاں کم و بیش ہر معاملے کے نظام میں آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے اس لیے خرابیاں ہیں کہ دم توڑنے کا نام نہیں لیتی اور بظاہر مفید معاملہ بھی بالآخر خسارہ دینے لگتا ہے، مسائل پیدا کرتا جاتا ہے۔

نیٹ میٹرنگ کا بھی یہی معاملہ ہے۔ کسی باضابطہ نظام کے تحت کام نہ ہو پانے کے باعث یہ ہو رہا ہے کہ کہیں کسی علاقے میں سولر سسٹم بہت زیادہ لگائے جانے کی صورت میں گرڈ یا سسٹم کوعوام کی طرف سے فاضل بجلی بہت بڑے پیمانے پر ملنے لگتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ٹرانسفارمر پر دباؤ بڑھتا ہے۔ اگر کہیں بجلی کی کھپت میں کسی وجہ سے کمی واقع ہوگئی ہو تو سولر سسٹم سے ملنے والی بجلی رسد بڑھاکر منافع گھٹانے کے ساتھ ساتھ تکنیکی پیچیدگیاں بھی پیدا کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ حل کرنے کے لیے باضابطہ پالیسی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اُس پالیسی کے تحت حکمتِ عملی ترتیب دی جائے۔

سولر سسٹم لگانے کا مطلب صرف پینل فٹ کردینا نہیں ہے۔ تمام تکنیکی معاملات کا جاننا لازم ہے تاکہ کوئی دھوکا نہ دے سکے، تنصیب اور مرمت و دیکھ بھال میں زیادہ وصولی نہ کرسکے۔

حکومت اب تک طے نہیں کر پائی ہے کہ گھروں میں لگائے جانے والے سولر سسٹمز سے لی جانے والی بجلی کے بدلے میں مفت یونٹس دینے کا کیا طریقِ کار اختیار کیا جائے۔ اس کا ایک بنیادی سبب یہ بھی ہے کہ لوگ سوچے بغیر سولر سسٹمز لگوا رہے ہیں اور اُن کی نیٹ میٹرنگ بھی کروا رہے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اس معاملے میں توازن اور مستقل مزاجی اہم ہے۔ اگر کسی نے سولر سسٹم لگوایا ہے تو پھر اُسے برقرار رہنا چاہیے۔ حکومت یا متعلقہ اداروں کو معلوم ہونا چاہیے کہ کن علاقوں سے کتنی اضافی بجلی ملے گی تاکہ گرڈ سسٹم پر پیداواری دباؤ کم کیا جاسکے۔ اس وقت ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اچھی خاصی بجلی صرف کیے بغیر ضائع ہو جاتی ہے۔ اس ضائع ہو جانے والی بجلی کی وصولی بھی صارفین ہی سے کی جاتی ہے۔

نیٹ میٹرنگ کے حوالے سے جامع حکمتِ عملی تیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو بتایا جاسکے کہ وہ کون سا سسٹم لگائیں کہ جس سے ان پر کوئی بوجھ پڑے نہ کسی اور پر۔ گھریلو سولر سسٹمز سے لی جانے والی بجلی اگر بے مصرف رہ جائے تو نیٹ میٹرنگ کا کوئی فائدہ نہیں۔

ایک متبادل طریقہ یہ بھی تو ہوسکتا ہے کہ کوئی شک اپنے گھر کی چھت پر بڑا سولر سسٹم لگوائے اور اپنی ضرورت سے زیادہ بوجھ اڑوس پڑوس کے لوگوں کو فروخت کرے اور اُن سے ملنے والی رقم سے اُس سسٹم کی مرمت اور دیکھ بھال کے اخراجات ادا کرتے رہے۔

کسی کا بڑا گھر ہو اور چھت بھی بڑی ہو تو چند گھروں سے معاملات طے کرکے اُن کی ضرورت کے مطابق سولر پینلز لگاکر وصولی کرسکتا ہے۔ اس صورت میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی بھی جاری رہے گی اور بہت سے لوگوں کو بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے نجات بھی مل سکے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے