English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

متحدہ عرب امارات میں مظاہروں پر 57 بنگلہ دیشیوں کو 10 سال سے لے کر عمر قید تک کی سزائیں: سرکاری میڈیا

متحدہ عرب امارات نے جو ایسا خلیجی ملک ہے جہاں مظاہروں پر پابندی ہے 57 بنگلہ دیشی تارکین وطن کو اپنی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے پر طویل قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

ان سزاؤں کے بارے میں سرکاری میڈیا نے پیر کو رپورٹ دی ہے۔

بنگلہ دیش کو رواں ماہ سول سروس کی ملازمتوں کے لیے کوٹہ سسٹم کے خلاف مظاہروں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سےوزیر اعظم شیخ حسینہ کی 15 سالہ آمرانہ حکومت کے حامیوں کو فائدہ پہنچا ہے۔




تقریبأ روزانہ ہونے والے احتجاج نے پچھلے ہفتے شہری بدامنی میں اضافہ کیا جس میں 163 افراد ہلاک ہو گئے۔ پولیس کے مطابق، تشدد شروع ہونے کے بعد سے ڈھاکہ میں حزب اختلاف کے کچھ رہنماؤں سمیت 500 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

پیر کے روز، امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ڈبلیو اے ایم نے کہا کہ مبینہ مظاہروں میں حصہ لینے پر تین بنگلہ دیشی تارکین وطن کو عمر قید، دیگر 53 کو 10 سال قید اور ایک کو 11 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

ڈبلیو اے ایم کا کہنا ہے کہ ملزمان نے "جمعہ کو متحدہ عرب امارات کی کئی سڑکوں پر جمع ہو کر فسادات بھڑکا دیے تھے”، اس نے مزید بتایا ہے کہ انہیں قید کی مدت پوری ہونے کے بعد ملک بدر کر دیا جائے گا۔

امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق، یہ الزامات ایک تیز رفتار تحقیقات کے بعد عائد کیے گئے، جس کا حکم جمعہ کو دیا گیا تھا۔

ایک گواہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ مدعا علیہان نے بنگلہ دیشی حکومت کے فیصلوں کے خلاف احتجاج میں متحدہ عرب امارات کی کئی سڑکوں پر بڑے پیمانے پر مارچ کا اجتماع کیا اور انہیں منظم کیا۔


ایک بھارتی تارک وطن کی دبئی میں آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں۔

ایک بھارتی تارک وطن کی دبئی میں آخری رسومات ادا کی جا رہی ہیں۔

متحدہ عرب امارات، سات ریاستوں کی فیڈریشن ہے جہاں زیادہ تر تارکین وطن کی آبادی ہے، جن میں سے اکثر جنوبی ایشیا سے تعلق رکھتے ہیں جن کی بڑی اکثریت محنت کشوں کے طور پر کام کرتی ہے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے مطابق، پاکستانیوں اوربھارتیوں کے بعد، بنگلہ دیشی متحدہ عرب امارات میں تارکین وطن کا تیسرا سب سے بڑا گروپ ہیں۔

تیل کی دولت سے مالا مال خلیجی ریاست میں بلا اجازت مظاہروں پر پابندی ہے اورریاست، حکمرانوں پر تنقید یا ایسی تقریر پر پابندی عائد کرتی ہے جو سماجی بدامنی پیدا کرنے یا اس کی حوصلہ افزائی کرنے والی سمجھی جاتی ہے۔


4 مئی 2015 کو لی گئی فائل فوٹو میں، حکومت کےمیڈیا ٹور کے دوران، کارکن قطر کے شہر دوحہ میں 2022 ورلڈ کپ کے لیے تعمیر کیے جانے والے الوکرا اسٹیڈیم کے ورک سائٹ کی طرف واپس جارہے ہیں۔ (اے پی فوٹو)

4 مئی 2015 کو لی گئی فائل فوٹو میں، حکومت کےمیڈیا ٹور کے دوران، کارکن قطر کے شہر دوحہ میں 2022 ورلڈ کپ کے لیے تعمیر کیے جانے والے الوکرا اسٹیڈیم کے ورک سائٹ کی طرف واپس جارہے ہیں۔ (اے پی فوٹو)

ہتک عزت کے ساتھ ساتھ زبانی اور تحریری اہانت، خواہ وہ شائع کی گئی ہو یا نجی طور پرکی جائے، قانون کے مطابق قابل سزا ہے۔

اس رپورٹ کا مواد اے ایف پی سے لیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے