ڈھاکا: بنگلادیش کی حکومت نے سرکاری ملازمتوں میں کوٹے سے متعلق عدالتی فیصلے کو باضابطہ طور پر قبول کر نے کا عندیہ دے دیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق دارالحکومت ڈھاکا سمیت دیگر شہروں میں دوسرے روز بھی حالات پرسکون رہے مگر ملک میں کرفیو برقرار ہے جب کہ انٹرنیٹ اور ٹیلی کام سروسز بدستور بند ہیں۔
رپورٹ کے مطابق طلبہ نے حسینہ واجد حکومت کو پرتشدد کریک ڈاون پر معافی مانگنے اور یونیورسٹیاں دوبارہ کھولنے سمیت 8 مطالبات پورے کرنے کیلیے 48 گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
دوسری جانب بنگلادیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے ملک میں پرتشدد واقعات اور حالات خراب کرنے کا الزام اپنے مخالفین پر ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم کبھی کرفیو نہیں لگانا چاہتے تھے، ہمیں لوگوں کی حفاظت کے لیے کرفیو لگانے پر مجبور ہونا پڑا، جیسے ہی حالات معمول پر آئیں گے تو کرفیو اٹھا لیا جائیگا۔

