امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ملک کا نظم و نسق اب نئی نسل کو سنبھالنا ہے اس لیے مشعل اُس کے حوالے کردی ہے۔
ایوانِ صدر کے اوول آفس سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے کہا کہ انتخابی دوڑ سے میرا الگ ہو جانا منطقی فیصلہ ہے۔ اب نئی نسل کو ملک سنبھالنا ہے۔ ہم اُسے ذمہ داری سونپ رہے ہیں۔
صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ یہ وقت قوم کو متحد کرنے کا ہے تاکہ بڑھتے ہوئے چیلنجوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔ اندرونی، علاقائی اور عالمی حالات بہت تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ ایسے میں لازم ہے کہ معقول فیصلے بروقت کیے جائیں۔
انتخابی دوڑ سے الگ ہونے کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے صدر بائیڈن نے خطاب میں کہا کہ یہ فیصلہ جمہوریت کے حق میں کیا ہے۔ ملک کو حقیقی جمہوریت کی ضرورت ہے اور اس کے لیے لازم ہے کہ سب اپنی اپنی ذؐمہ داری محسوس کریں۔
امریکی صدر نے اس منصب پر رہتے ہوئے قوم کی خدمت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں اس منصب کا بے حد احترام کرتا ہوں مگر جمہوریت کے حق میں فیصلہ دینا اِس سے مقدم ہے۔ میری کارکردگی ایسی نہیں تھی کہ میں دوسری بار صدر نہ بنتا مگر پھر بھی جو کچھ ملک کے حق میں ہوسکتا تھا وہی میں نے کیا۔ اہلِ وطن کی خدمت کرنا میرے لیے اعزاز ہے۔ میں اپنی کارکردگی سے مطمئن ہوں مگر سوال میرے اطمینان سے زیادہ آپ کے اطمینان کا ہے۔
صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ میں اس بات کو سمجھتا ہوں کہ امریکا نازک موڑ پر ہے جہاں بہت سی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ تبدیلیاں مرحلہ وار آنی چاہئیں۔
واضح رہے کہ صدر جو بائیڈن نے خراب صحت کے باعث بڑھتی ہوئی تنقید کے پیشِ نظر 21 جولائی کو انتخابی دوڑ سے الگ ہونے کا باضابطہ اعلان کیا تھا۔ اُن کے ہٹنے پر نائب صدر کملا ہیرس کو ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار بننے کا موقع ملا ہے۔ کملا ہیرس کو ری پبلکن امیدوار سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابل مضبوط امیدوار گردانا جارہا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے انتخابی اکھاڑے میں “دھانسو” انٹری دی ہے اور اب ری پبلکنز کو محسوس ہو رہا ہے کہ انتخابی دوڑ میں ڈیموکریٹس سے آگے نکلنا لوہے کے چنے چبانے جیسا ہوگا۔

