English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

“میرے پیارے عیسائی بھائیو!” ٹرمپ مذہب کا سہارا لینے پر تُل گئے

سابق امریکی صدر اور ری پبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ نومبر کے صدارتی الیکشن کے بعد امریکا کے عیسائیوں کو پھر کبھی ووٹ ڈالنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

یہ بات انہوں نے امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر ویسٹ پام بیچ میں قدامت پسند گروپ ٹرننگ پوائنٹ ایکشن کی ایک تقریب کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

ٹرمپ کی اس بات پر مخالفین کے علاوہ خود حامی بھی پریشان ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ٹرمپ کی انتخابی مہم چلانے والی ٹیم اِس بیان کی وضاحت کرے مگر وضاحت کی زحمت گوارا نہیں کی جارہی۔

سابق امریکی صدر کی طرف سے اس طرح کی بڑھک نئی چیز نہیں۔ وہ ایک سال سے کہتے آئے ہیں کہ اگر وہ دوبارہ صدر منتخب نہ ہوئے تو امریکا میں خون کی ندیاں بہیں گی اور پھر کبھی انتخابات نہیں ہوسکیں گے۔

جمعہ کو ٹرننگ پوائنٹ ایکشن کی تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اگر امریکا کے عیسائیوں نے نومبر کے صدارتی الیکشن میں ووٹ ڈالے تو انہیں پھر کبھی ووٹ نہیں ڈالنا پڑیں گے۔

ٹرمپ اپنی بڑھکوں کے حوالے سے مشہور بھی ہیں اور بدنام بھی۔ ڈیموکریٹس اُن پر جمہوریت کے لیے خطرہ ہونے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ اُنہوں نے 2020 کے صدارتی انتخاب میں شکست کے بعد شدید ہنگامہ آرائی کو ہوا دی تھی اور جمہوریت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی تھی۔ اس حوالے سے انہیں مقدمات کا سامنا بھی رہا ہے۔

سیاسی مبصرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹس کی طرف سے نائب صدر کملا ہیرس کو صدارتی امیدوار بنائے جانے پر ڈونلڈ ٹرمپ کو محسوس ہو رہا ہے کہ اب اُن کے لیے ٹف ٹائم شروع ہو رہا ہے۔ یہی سبب ہے کہ وہ پھر منافرت پھیلانے والی باتیں کر رہے ہیں۔ وہ اپنے ووٹرز کو “میرے پیارے عیسائی بھائیو” کہتے ہوئے مخاطب کر رہے ہیں۔

انتہائی دائیں بازو کی سوچ کے تحت کام کرنے والی ری پبلکن پارٹی اب کھل کر مذہبی جذبات کو ہوا دے رہی ہے جبکہ ڈیموکریٹس کی طرف سے ایسی کوئی بات نہیں کہی جارہی۔ ڈیموکریٹس نے ری پبلکنز کو مذہبی قرار دیتے ہوئے مذہب کو خطرہ قرار نہیں دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے