امریکی نائب صدر اور ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار کملا ہیرس نے کہا ہے کہ دو دن قبل گولان کی پہاڑیوں کے علاقے میں ایک دروز گاؤں پر راکٹ حملے میں 12 ہلاکتوں پر خاموش نہیں رہا جاسکتا۔ اس کے لیے اسرائیلی کی بھرپور حمایت کرنا ہوگی۔
ایک انٹرویو میں کملا ہیرس نے کہا کہ گولان کی پہاڑیوں کے علاقے میں ایک فٹبال گراؤنڈ گرنے والے راکٹ کی زد میں آکر ہلاک ہونے والوں میں بچے بھی شامل تھے۔ یہ حملہ ناقابلِ برداشت ہے۔ اس طرح کے حملوں سے مکمل جنگ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
کملا ہیرس نے چار دن قبل کہا تھا کہ غزہ میں اسرائیل کی جارحیت مزید برداشت نہیں کی جاسکتی۔ اب وہ اسرائیل کی حمایت میں بول پڑی ہیں۔ غزہ میں بچوں اور عورتوں کو شہید کرنے والے حملوں کے بارے میں وہ زیادہ vocal نہیں رہیں۔ تین دن قبل اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے واشنگٹن میں ملاقات کے کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ غزہ کی لڑائی ختم ہونی چاہیے تاہم انہوں نے صہیونی فوج کی کارروائیوں میں خواتین اور بچوں کی شہادتوں کے براہِ راست تذکرے سے گریز کیا تھا۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے اس حملے کا الزام لبنان کی ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ پر عائد کرتے ہوئے بھرپور انتقام کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی کابینہ نے حزب اللہ کو منہ توڑ جواب دینے کی حکمتِ عملی تیار کرنے کے حوالے سے ایک اجلاس بھی کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے ٹھکانوں پر دو دن کے دوران کئی حملے کیے گئے ہیں تاہم یہ معمولی حملے ہیں۔ بھرپور جوابی کارروائی سوچ سمجھ کر کی جائے گی اور حزب اللہ کو ایسا سبق سکھایا جائے گا کہ وہ اسرائیلی سرزمین پر حملہ کرنے سے پہلے عواقب کے بارے میں ضرور سوچے گی۔

