
کراکس (انٹرنیشنل ڈیسک) وینزویلا کی حکومت نے صدارتی انتخابات سے متعلق متنازع بیانات کی وجہ سے 7 ممالک کے سفارتی عملے کو ملک چھوڑے کا حکم دے دیا ۔ حکومت نے ارجنٹائن، چلی، کوسٹا ریکا، پیرو، پاناما، جمہوریہ ڈومینک اور یوراگوئے کے بیانات کو ملکی معاملات میں مداخلت قرار دے کر سفارتی عملے کو وینزویلا سے فوری طور پر نکالنے کا مطالبہ کیا ۔ صدرنکولاس مادورو کے حکم پر 7 ممالک سے بھی وینزویلا کا تمام سفارتی عملہ واپس بلالیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وینزویلا کو اپنی تقدیر کا خود فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے ، وینزویلا امن و اتحاد کی فضا کے لیے خطرات کے خلاف ضروری تدابیر اختیار کرنے کا مجاز ہے۔ دوسری جانب وینزویلا میں اپوزیشن نے انتخابات کے متنازع نتائج کو ماننے سے انکار کر دیا اور ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے۔ دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ سیکورٹی فورسز نے احتجاج کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں استعمال کیں۔ ہزاروں افراد وسطی کراکس پہنچے، جن میں سے کچھ شہر کے آس پاس کے پہاڑوں پر کچی آبادیوں سے میلوں پیدل چل کر آئے تھے،جو صدارتی محل کی طرف جانا چاہتے تھے۔ مظاہرین نے صدر مادورو کے پوسٹر پھاڑ کر جلا دیے گئے جبکہ ٹائروں، کاروں اور کچرے کو بھی نذر آتش کر دیا گیا۔واضح رہے کہ حزب اختلاف کے امیدوار ایڈمنڈو گونزالیز کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے 73.2 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔
