بھارت کی جنوبی ریاست کیرالا میں لینڈ سلائیڈنگ سے مرنے والوں کی تعداد 300 تک پہنچ گئی ہے۔
ضلع وایاند کے متعدد علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں کئی دیہات دھنس گئے۔ امدادی کارروائیاں اب تک جاری ہیں۔
بھارتی میڈیا پر ماہرین نے اپنے تجزیوں میں کہا ہے کہ بھارت کی متعدد ریاستوں میں بہت بڑے پیمانے پر معدنیات نکالی جارہی ہیں۔ بعض علاقوں میں تعمیرات کے لیے پتھر بھی بہت بڑے پیمانے پر نکالا جارہا ہے۔ اس کے نتیجے میں زمین کی پکڑ کمزور پڑ رہی ہے۔ دریاؤں کے نزدیک واقع زمینوں میں کھوکھلا پن بڑھنے سے لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔
گزشتہ روز بھارتی ریاست اترا کھنڈ کے علاقے کیدار ناتھ میں بھی لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں مرکزی شاہراہ کا 30 میٹر کا حصہ بُری طرح متاثر ہوا۔ لینڈ سلائیڈنگ کے بعد یہ شاہراہ غیر معینہ مدت کے لیے بند کردی گئی۔ کیدار ناتھ میں ہندوؤں کے مقدس مقامات ہیں۔ اِن مقامات کی زیارت کو جانے والے متعدد یاتری راستوں ہی میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔
عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور دیگر عوامل کے نتیجے میں رونما ہونے والی موسمی تبدیلیوں کی زد میں بھارت بھی ہے۔ کئی سال سے بھارت میں غیر معمولی بارشیں ہو رہی ہیں۔ بھارت میں اربن فلڈنگ شاذ و نادر ہوا کرتی تھی۔ اب تین چار سال سے ہر سال مون سون کے دوران ممبئی، دہلی اور دیگر بڑے شہروں میں موسلا دھار بارش سے درجنوں نشیبی علاقے زیرِ آب آجاتے ہیں اور ہفتوں پانی کھڑا رہتا ہے۔

