امریکی انتخابی مہم کے دوران امیدوار ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے ہی ہیں۔ وہ ایک دوسرے کی خامیوں اور کمزوریوں پر نظر رکھتے ہیں اور اُنہیں کیش کرانے کے فراق میں رہتے ہیں۔ کسی بھی امیدوار کے ماضی کی کوئی ایسی ویسی بات خوب نمک مرچ لگاکر بیان کی جاتی ہے تاکہ ووٹرز کو اُس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ گمراہ کیا جاسکے۔
ری پبلکن امیدوار سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑبولے پن کے بارے میں سبھی جانتے ہیں۔ وہ کسی بھی بات کو اُس کی اصل سے زیادہ بیان کرنے کے عادی ہیں۔ کسی بھی حریف کے بارے میں کچھ بھی ایسا ویسا معلوم ہوجائے تو سمجھ لیجیے ٹرمپ کی لاٹری نکل آتی ہے۔ کملا ہیرس کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔
ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار کملا ہیرس کی نسلی شناخت آج کل انتخابی مہم کا ایک بنیادی اِشو ہوکر رہ گئی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ہفتے سے اُن کی نسلی شناخت کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اِس بات کو خوب اچھالا ہے کہ وہ تارکینِ وطن کی بیٹی ہیں اور اب خود کو اصل امریکی ثابت کرنے پر کمربستہ ہیں۔
کملا ہیرس کی والدہ شیاملا گوپالن کا تعلق بھارت کے شہر چنئی (مدارس) سے تھا۔ وہ امریکا پڑھنے آئی تھیں۔ یہاں اُن کی دوستی جزائرِ غرب الہند سے تعلق رکھنے والے ڈونلڈ جے ہیرس سے ہوئی۔ دونوں برکلے یونیورسٹی میں پڑھتے تھے۔ اِسی دوران اُن کے درمیان محبت پروان چڑھی اور پھر اُنہوں نے شادی کرلی۔
کملا ہیرس کو اپنی منفرد نسلی شناخت پر فخر رہا ہے۔ وہ انڈین بھی ہیں اور کیریبین بھی۔ چار سال قبل نائب صدر کے لیے انتخابی اکھاڑے میں اترتے وقت کملا نے اس بات پر اظہارِ تفاخر کیا تھا کہ اُن کا آبائی تعلق بھارت سے ہے۔
اب وہ خود کو غیر سفید فام امریکی کی حیثیت سے پیش کر رہی ہیں۔ یہ اُن کا ذاتی معاملہ ہے اور اِس کا کسی کے فائدے یا نقصان سے بظاہر کوئی تعلق نہیں مگر ری پبلکن پارٹی کے بہت سے رہنما اُن کی زندگی کے اِس پہلو کو بہت اچھال رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ تو کملا ہیرس کی نسلی شناخت کے معاملے کو ڈگڈگی کی طرح بجانے پر تُلے ہوئے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کملا ہیرس کا ایک پُرانا فیملی فوٹو پوسٹ کرکے ڈیموکریٹ امیدوار کو متنازع بنانے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔ اس تصویر میں جواں سال کملا ہیرس اپنی والدہ، والد اور دیگر رشتہ داروں کے ساتھ دکھائی دے رہی ہیں۔
کملا ہیرس کی اس تصویر کو “انڈین ہیریٹیج پکچر” کہہ کر ٹرمپ نے فیملی کا تمسخر اڑانے کی کوشش کی ہے۔ امریکی ووٹرز کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ جسے وہ اپنی صدر کے طور پر ووٹ دینے والے ہیں اُس کی جڑیں تو انڈیا میں ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے تین دن قبل شکاگو میں سیاہ فام صحافیوں کے ایک ایونٹ میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ کملا ہیرس انڈین ہے یا سیاہ فام امریکی۔ اُن کا کہنا تھا کہ مجھے تو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ کملا ہیرس کے والدین الگ الگ نسل کے ہیں اور یہ کہ وہ راتوں رات انڈین امریکن سے بلیک امریکن بننے کی کوشش کر رہی ہیں۔
کملا ہیرس کی نسلی شناخت کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ریمارکس نے امریکا بھر میں شدید تنقید کا سامنا کیا ہے۔ امریکی ایوانِ صدر نے بھی نائب صدر پر کیچڑ اچھالنے کی اس کوشش کو انتہائی شرم ناک اور توہین آمیز قرار دیا ہے۔ امریکا بھر میں سوشل میڈیا صارفین نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ریمارکس کو افسوس ناک قرار دے کر اُن کی مذمت کی ہے۔
دی نیشنل ایسوسی ایشن آف بلیک جرنلسٹس کے ایونٹ سے ٹرمپ کے خطاب کی امریکا بھر میں مذمت کی گئی ہے۔ اس ایونٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ کملا ہیرس نے اپنی انڈین ہیریٹیج کو فروغ دینے کی بھرپور کوشش کی مگر اب وہ اچانک بلیک امریکن ہوگئی ہیں۔
ڈیموکریٹ حلقوں نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی معاشرے میں خواہ مخواہ تفریق پیدا کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ اُن کا استدلال ہے کہ کملا ہیرس اگر تارکینِ وطن کی اولاد ہیں تو اِس میں حیرت کی کیا بات ہے، پورا امریکا ہی تارکینِ وطن کی اولاد سے بھرا پڑا ہے۔ خود ڈونلڈ ٹرمپ کا خاندان بھی یورپ میں جڑیں رکھتا ہے۔ امریکا بھر میں یورپ، جنوبی ایشیا، افریقا، وسطِ ایشیا، مشرقِ بعید اور مشرقِ وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے بسے ہوئے ہیں۔ اصل امریکی باشندے “ریڈ انڈین” تو بہت ہی قلیل تعداد میں ہیں۔

