ڈھاکا:ٰبنگلا دیشی ذرائع نے حکومتی تختہ الٹنے سے متعلق انقلابی مظاہرین کے ایک نعرے کو تحریکی نعرہ قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ طلبہ نے عوام میں جوش و جذبہ پیدا کرنے کے لیے جس نعرے کاانتخاب کیا تھا وہ ‘تم کون ہم کون، رضا کار رضا کار’ تھا۔رپورٹ کے مطابق بنگلادیش میں حسینہ واجدکی حکومت کا دھڑن تختہ کرنے والی طلبہ تحریک میں یہ نعرہ مزاحمت کی علامت بنا رہا۔
واضح رہے کہ بنگلا دیش میں شیخ حسینہ واجد نے اپنا حق مانگنے والے طلبہ کو رضا کار کا خطاب دیا، بنگلا دیش میں رضا کار کا مطلب غدار، رضار کار وہ لوگ تھے جنہوں نے 71 کی جنگ میں پاکستان کا ساتھ دیا تھا۔بنگلادیشی اسٹوڈنٹس نے یہ نعرہ ایک طعنہ ‘رضاکار رضاکار’ حسینہ واجد کو مظاہروں کے دوران خوب سنایا۔
طلبہ نے اس نعرے کوایک ایسی صورتحال میں اختیار کیا تھا جب سابق وزیراعظم حسینہ واجد نے کوٹا سسٹم پرنکتہ چینی کرنے والوں پر طنز کے تیر چلاتے ہوئے کہا تھا کہ ‘‘اگر حکومتی ملازمتوں میں آزادی کے لیے لڑنے والوں کے پوتے پوتیوں کو کوٹا نہیں دیا جائے گا تو کیا‘رضاکاروں’ کے پوتے پوتیوں کو دیا جائے گا’’۔

