ڈھاکا: بنگلادیش کی موجودہ سیاسی صورتحال پرمقامی میڈیا نے ایک تازہ ترین رپورٹ جاری کردی۔جس میں بتایا گیا کہ حسینہ واجد نے جیسے ہی اپنے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے، مظاہرین نے دارالخلافہ میں سقوط ڈھاکا کے موجب شیخ مجیب الرحمان کی ذاتی رہائش کوبھی جلاکر خاکستر کردیا۔
بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق حکومت کیخلاف بپھر ے عوام نے بنگلا دیش کے پہلے وزیراعظم شیخ مجیب کی اپنی رہائش گاہ 32 دھان منڈی، جس کو بنگابندھو میموریل میوزیم میں تبدیل کردیا گیا تھا اسے بھی بری طرح جلاکر راکھ کرڈالا۔واضح رہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں 15 اگست 1975ءکو فوجی بغاوت کے دوران شیخ مجیب کو قتل کیا گیا تھا۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق بنگلادشیخ کی سابق وزیراعظم حسینہ واجداپنی پناہ گاہ بھارت فرار ہونے کے بعد بنگلادیش میں احتجاجی کارکنوں نے عوامی لیگ کی اہم عمارتوں کویکے بعد دیگرے نشانہ بناناشروع کردیا ہے۔رپورٹ کے مطابق عوامی لیگ کا تختہ الٹنے والے بنگلادیشی مظاہرین نے وزیراعظم ہاﺅس میں گھس کر قیمتی ساڑھیاں بھی لوٹ لیں۔ علاوہ ازیںایک انقلابی مظاہرین نے عوامی لیگ کے مرکزی دفتر کو آگ لگا دی اور عمارت میں موجود قیمتی فرنیچر سمیت جس کو جواشیا ملی لوٹ کر فرار ہوگئے ۔
مزیدبرآں یہ کہ بنگلا دیش کی ایک اورانقلابی تنظیم نے عوامی لیگ کے ڈھاکا کے ضلعی دفتر کو بھی نذر آتش کر دیا،جہاںایک گیس سلنڈر کی دکان کو بھی آگ گئی۔

