English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

۔5 اگست کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف یوم سیاہ منایا گیا

القمر

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ملک بھر کے علماء مشائخ کی نمائندہ تنظیم علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان کے زیر اہتمام ملک بھر اور آزاد کشمیر میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف یوم سیاہ منایا گیا۔ اس موقع پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور بھارت کے خلاف احتجاجی اجتماعات، ریلیوں،اور مظاہروں کا انعقاد کیا گیا، کراچی میں ملک بھر کے علماء مشائخ کی نمائندہ تنظیم علماء مشائخ فیڈریشن آف پاکستان سربراہ سفیر امن پیر صاحبزدہ احمد عمران نقشبندی سجادہ نشیں آستانہ عالیہ بھیج پیر جٹا کی قیادت میں شاہراہ فیصل پر احتجاجی مظاہرے کا انعقاد ہوا جس سے جید علماء مشائخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی طرف سے5 اگست 2019 میں آرٹیکل 370 اور35 اے کی منسوخی جہاں اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے،وہیں عالمی برادری کے لیے کھلا چیلنج بھی ہے کیونکہ مسئلہ کشمیر ایک تسلیم شدہ متنازع عالمی مسئلہ ہے اور بھارت اس کی متنازعہ حیثیت کو تبدل نہیں کرسکتا۔ انہوں کشمیر میں بھارت کی طرف سے جاری ظلم و بربریت، قتل و غارت اور انسانی حقوق کی مسلسل پامالیوں پر شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام اور علما ء مشائخ بھارتی وزیراعظم نریند مودی کی طرف سے اُٹھائے گئے تمام غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے سفیر امن پیر صاحبزدہ احمد عمران نقشبندی نے کہا کہ بھارت نے 5اگست 2019 کا جو اقدام اٹھایا ہے یہ کشمیر کی تاریخ میں سیاہ ترین دن ہے، بھارت نہتے کشمیریوں پر ظلم وجبر کے پہاڑ توڑ کر بھی کشمیریوں کا جذبہ حریت سرد نہیں کر سکا، کشمیری عوام نے 19جولائی 1947 کی قرارداد الحاق پاکستان کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اس خطہ میں اور عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے لیکن اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑرہا ہے۔ موجودہ حالات میں بھارت کو مودی سے خطرہ ہے مودی یا بی جے پی کا بھارت دنیا میں اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی مزاحمتی تحریک پوری قوت کیساتھ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو بھارت کے 5 اگست کے اقدامات کے جواب میں بین الاقوامی فورمز سے رجوع کرنا چاہیے، 5 سال قبل 5 اگست 2019 کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی سیاسی و آئینی صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370اور 35-Aکو منسوخ کر دیا، بھارت مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی طور پر جابرانہ اور غاصبانہ قبضہ جمانا چاہتا ہے۔ ان تمام بھارتی مظالم کے باوجود کشمیری عوام بغیر کسی ہتھیار کے بھارتی ریاستی دہشت گردی کا دلیری کیساتھ سامنا کر رہے ہیں۔ صاحبزادہ نقشبندی نے کہا کہ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر میں جعلی انتخابات کا ڈھونگ رچانا چاہتی ہے لیکن بھارت یہ جان لے کہ کشمیری عوام کو حق خودارادیت دینے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ قابل قبول نہیں ہے، کشمیر کی کسی قسم کی تقسیم کشمیری عوام قبول نہیں کرے گی، لہٰذا کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اُن کاحق خودارادیت دیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے