امریکہ کی نائب صدر کاملا ہیرس نے پیر کے روز باضابطہ طور پر ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی نامزدگی حاصل کر لی ہے۔
کاملا ہیرس کی نامزدگی سے یوں وہ کسی بڑی پارٹی کی قیادت کرنے والی پہلی غیر سفید فام خاتون بن گئی ہیں۔
وہ تارکینِ وطن کی بیٹی ہیں۔ کاملا ہیرس کیلی فورنیا کے سیاسی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شعبوں میں ترقی کرکے امریکہ کی تاریخ میں پہلی خاتون نائب صدر رہی ہیں۔
چار سال قبل انہوں نے امریکہ کی صدارت حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔
اب ان کی ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار کے طور پر نامزدگی جماعت کے ہنگامہ خیز دور کے اختتام کو ظاہر کرتی ہے۔
صدر جو بائیڈن کے جون میں ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ پہلے مباحثے میں خراب کارکردگی نے ان کے دوبارہ انتخاب کے امکانات کے بارے میں ان کے حامیوں کے اعتماد کو توڑ دیا۔
اس کے بعد پارٹی کے اندر ایک غیر معمولی تنازع شروع ہوا کہ انہیں صدارتی مہم کی دوڑ میں رہنا چاہیے یا وہ دستبردار ہو جائیں۔ بعد ازاں انہوں نے دستبردار ہونے کا اعلان کیا اور کاملا ہیرس کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا۔
صدر بائیڈن کی امیدوار ی ختم ہونے کے فوراً بعد ہیرس اور ان کی ٹیم نے اپنی نامزدگی کو محفوظ بنانے کے لیے پارٹی کے 1,976 ڈیلی گیٹس کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش شروع کر دی تھی۔
خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹڈ پریس کے مطابق انہوں نےمطلوبہ تعداد میں ڈیلی گیٹس کی حمایت پہلے 32 گھنٹوں ہی میں پوری کرلی تھی۔
ان کی نامزدگی ڈیموکریٹک نیشنل کنیونشن کے ڈیلی گیٹس کی آن لائن ووٹ کے پانچویں راونڈ میں سرکاری طور پر انہیں حاصل ہو گئی۔ پارٹی کے 32 فیصد ڈیلی گیٹس نے ہیرس کے حق میں ووٹ دیا۔
پارٹی اس ووٹ کی رسمی طور پر اس ماہ شکاگو میں ہونے والے کنونشن میں میں توثیق کرے گی۔
یسوسی ایٹڈ پریس اور این او آر سی سنٹر برائے پبلک افیئرز ریسرچ پول کے مطابق ، جو کہ بائیڈن کے دستبردار ہونے کے بعد کیا گیا تھا، 46 فیصد امریکی ہیریس کے بارے میں موافق نظریہ رکھتے ہیں۔ تقریباً اتنے ہی تناسب سے امریکی ان کےلیے غیرموافق رائے رکھتے ہیں۔
تاہم، زیادہ ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ وہ بائیڈن کے مقابلے میں کاملا ہیرس کی امیدواری سے مطمئن ہیں جنہوں نے ایک ایسی پارٹی کو تقویت بخشی ہے جو طویل عرصے سے یہ سمجھتی تھی کہ 81 سالہ بائیڈن ری پبلیکن امیدوار سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف اس کے نامزد امیدوار ہوں گے۔ ڈیموکریٹس ٹرمپ کو ایک وجودی خطرہ سمجھتے ہیں۔
ہیریس نے پہلے ہی سے یہ کہہ رکھا ہے کہ وہ ان موضوعات اور پالیسیوں سے ہٹنے کا ارادہ نہیں رکھتی ہیں جنہوں نے بائیڈن کی امیدواری کو تشکیل دیا تھا۔ ان میں جمہوریت، گن وائلسن کی روک تھام اور اسقاط حمل کے حقوق شامل ہیں۔
لیکن ہیرس ان موضوعات پر بائیڈن کے مقابلے میں زیادہ شدید انداز اپنا سکتی ہیں، خاص طور پر جب وہ اپنے استغاثہ کے پس منظر کو ٹرمپ اور ان کو ہش منی کے ایک مقدمے میں 34 سنگین سزاؤں کا حوالہ دیتی ہیں جو ٹرمپ کو کاروباری ریکارڈ کو غلط بیان کرنے پر ملی ہیں ۔
ریاست کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹک سینیٹر الیکس پڈیلا نے کہا کہ نئی نسل کی اس انوکھی آواز کو دیکھا جائے ، ایک پراسیکیوٹر اور ایک عورت کی حیثیت سے دیکھا جائے جبکہ بنیادی حقوق، خاص طور پر تولیدی حقوق داوپر ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے تاریخ کے اس لمحے میں ستارے کاملا ہیرس کےحق میں ہیں۔
