English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حکمرانو! ایسا نہ ہو آپ کے ساتھ وہی ہو جیسا بنگلادیش میں عوام نے کیا، منعم ظفرخان

Landlords should be taxed instead of poor people

کراچی:امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ پرامن مزاحمت اور جدوجہد ہی سے مسائل حل ہوں گے۔حکمران ہوش کے ناخن لیں، کہیں آپ کے ساتھ ایسا نہ ہو جائے جیسا بنگلادیش میں عوام نے کیا۔

گورنر ہاؤس کراچی پر خواتین دھرنا و جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ کراچی کی خواتین مبارکباد کی مستحق ہیں جو ایک دن کے نوٹس پر اتنی بڑی تعداد میں دھرنے میں شریک ہوئیں۔

انہوں نے کہا کہ آج ملک کو آزاد ہوئے 77 سال ہوگئے جو کلمہ کی بنیاد پر حاصل ہوا۔ آزادی کا مقصد یہ تھا کہ ملک میں اللہ کا نظام نافذ ہوگا اور عدل و انصاف ہوگا، لیکن آج 77 سال ہوگئے کتنی حکومتیں آئی ہیں اور چلی گئیں مگر ریاست نے عوام کو تعلیم و صحت اور بنیادی ضروریات زندگی فراہم نہیں کرسکی۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ 77 سال گزرنے کے بعد آج کراچی کی مائیں،  بہنیں اور بیٹیاں سڑکوں پر موجود ہیں۔ خواتین گھروں کے اندر بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں اور پرورش کرتی ہیں۔  خواتین بچوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ گھروں کے کام میں بھی مصروف رہتی ہیں۔بد قسمتی سے آج خواتین بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

امیر جماعت کا کہنا تھا کہ کراچی اکیسویں صدی میں بھی ٹرانسپورٹ کی سہولیات سے محروم ہے۔  یہ شہر جو پاکستان کی معیشت چلاتا ہے اور صوبہ سندھ کے بجٹ میں 95 فیصد ادا کرتا ہے۔ کراچی کے ساڑھے 3 کروڑ عوام کے لیے سواری صرف چنگ چی رہ گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے پہلے حق دو کراچی اور اب حق دو عوام تحریک کا آغاز کردیا ہے ۔راولپنڈی میں آج دھرنے کا بارہواں دن ہے۔ ہمارا واضح اور دو ٹوک مطالبہ ہے کہ آئی پی پیز کے ساتھ ظالمانہ معاہدوں کو از سر نو دیکھا جائے۔ سستی بجلی فراہم کی جائے اور لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے۔

منعم ظفر نے کہا کہ 40 خاندان جاگیرداروں اور وڈیروں کی شکل میں عوام پر مسلط ہیں۔ جماعت اسلامی پر امن مزاحمت پر یقین رکھتی ہے۔ ہم پاکستان کے عوام کو بیدار کرکے پر امن مزاحمت کررہے ہیں۔ ہم کسی بھی قسم کا تصادم نہیں چاہتے۔ ہم اگر چاہتے تو ڈی چوک پر بھی جاسکتے تھے لیکن عوام حافظ نعیم الرحمن کے اعلان کا انتظار کررہے ہیں۔ہم 4 روز سے کراچی میں گورنر ہاؤس پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں، اگر مطالبات نہ مانے گئے تو ہم شاہراہوں پر بھی جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکمران ہوش کے ناخن لیں ، جماعت اسلامی کے مطالبات منظور کریں ورنہ حق دو عوام تحریک حکومت گراؤ تحریک میں بدل جائے گی۔جماعت اسلامی لوہے کے چنے ہیں اگر چبانا چاہوگے تو دانت ٹوٹ جائیں گے۔اسٹیبلشمنٹ نے فارم 47 والوں کو مسلط کیا ہے اور کراچی میں قبضہ مئیر کو مسلط کیا ہے لیکن عوام کے دلوں سے جماعت اسلامی کو نہیں نکال سکتی۔

امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ پر امن مزاحمت اور جدوجہد ہی سے مسائل حل ہوں گے۔شہر آگے بڑھے گا ملک ترقی کرے گا۔ ہمیں جدوجہد کو آگے بڑھانا ہے۔ گھر گھر جاکر عوام سے رابطہ کرنا ہے اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا ہے۔بنگلا دیش میں جماعت اسلامی کے رہنماؤں کو پھانسی کی سزائیں  دی گئیں لیکن انہوں نے سر نہیں جھکایا۔ بنگلا دیش کی جماعت اسلامی اور طلبہ تنظیم نے ڈکٹیٹر حسینہ واحد کو ملک چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کیا۔ حکمران ہوش کے ناخن لیں ایسا نہ ہو کہ جیسے بنگلا دیش کے عوام نے کیا ہے وہ آپ کے ساتھ بھی ہوجائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے