اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سیکرٹری پاور ڈویژن نے سینیٹ کمیٹی میں انکشاف کیا ہے کہصرف 85 گھنٹے چلنے والے آئی پی پیز کو 49 ارب روپے ادا کیے جاتے ہیں۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین محسن عزیز کی صدارت میں ہوا۔ سیکرٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ ڈسکوز ملازمین کو ایک ارب 30 کروڑ روپے کی ماہانہ بجلی مفت یونٹس دیتے ہیں، اوسطا 78 ہزار روپے کی ماہانہ بجلی ایک ملازم کو ملتی ہے۔ اویس لغاری نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر آئی پی پیز کے معاہدوں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں، ہمارے پاس آئی پی پیز کے مکمل آڈٹ کی گنجائش موجود ہے، آئی پی پیز کو سارا سال ادائیگیاں کی جاتی ہیں، 1845 میگاواٹ کے آئی پی پیز صرف 85 گھنٹے چلتے ہیں، ان پلانٹس کو 49 ارب روپے سالانہ ادا کیے جاتے ہیں۔ سیکرٹری پاور نے کہا کہ ایک پلانٹ اگر سارا سال بند رہا تب بھی اسے کیپسٹی پیمنٹ ملے گی، کیونکہ اس پلانٹ کو چلانا ہم افورڈ نہیں کرسکتے، یہ پلانٹس ہمارے میرٹ آرڈر پر پورا نہیں اترتے۔ دوران اجلاس چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آئی پی پیز کا مسئلہ اٹھا ہوا ہے۔ اس پر احتجاج بھی ہو رہا ہے۔ چیئرمین پی پی آئی بی نے اس کو موخر کرنے کا کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تو صرف آئی پی پیز کے معاہدوں کی تفصیلات مانگی ہیں۔ کپیسٹی چارجز کا ذمے دار کون ہے؟۔ 70 ، 80 فیصد سے کم صلاحیت والے پلانٹس کیوں چل رہے ہیں۔ عوام کو ریلیف دینا ہمارا ایجنڈا ہے۔ جب یہ آئی پی پیز لگے اس وقت خطے کے ممالک میں کس ریٹ پر معاہدے ہوئے۔ پلانٹس کی ہیٹ ایفیشنسی کا کب کب آڈٹ ہوا۔ آئی پی پیز پورا عفریت بن چکا ہے۔سیکرٹری توانائی کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز کو ادائیگیاں انسالڈ کپیسٹی پر نہیں ہوتیں‘ ادائیگیاں ان کی کنڈیشن پر ہو تی ہیں‘ 5 پلانٹس بند کرنے جا رہے ہیں۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ آئی پی پیز نے کتنا فراڈ کیا ہے‘ ہم پورے خطے میں سب سے مہنگی بجلی پیدا کرتے ہیں‘ وزارت توانائی نے ملک کو تباہ کر دیا ہے۔
