راولپنڈی: نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے حکومتی ٹیم سے مذاکرات کے بعد کہا ہے کہ اگرحکومت آئی پی پیز مالکان کی سرپرستی جاری رکھے گی تو پھرعوام حساب لیں گے،غیرترقیاتی اخراجات پر 50فیصد کمی لانے سے عوام کو ریلیف مل سکتا ہے، حکومت کی سنجیدگی اسی وقت ظاہر ہوگی جب عوام کو ریلیف ملے گا، وقت آگیا ہے سرکاری مراعات ختم کی جائیں، اگر مقتدر طبقہ حالات کو نہیں سمجھے گا تو نقصان ملک کا ہوگا۔
حکومتی مذاکراتی ٹیم اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور بھی بے نتیجہ ختم ہوگیا، کمشنر آفس راولپنڈی میں ہونے والے مذاکرات میں وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر امور کشمیر و سیفران انجینئر امیر مقام، مسلم لیگ (ن)کے سینئر رہنما ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور وزیراعظم کے میڈیا کوآرڈینیٹر بدر شہباز وڑائچ شامل تھے جبکہ آر پی او راولپنڈی اور کمشنر راولپنڈی بھی مذاکرات میں موجود تھے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ وزیراعظم کا ایجنڈا ہے کہ ہم نے بجلی کی قیمتیں کم کرنی ہیں، 200یونٹ تک استعمال کرنے والے بجلی صارفین کو 50ارب روپے کی سبسڈی جون، جولائی اور اگست تین ماہ کے لئے دی گئی۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ آئی پی پیز کے معاملات کی جانچ پڑتال کے لئے ٹاسک فورس کا قیام عمل میں آ چکا ہے، وزیراعظم شہباز شریف ان اقدامات پر عمل پیرا ہیں، جماعت اسلامی کا مطالبہ ہمارا ایجنڈا ہے، بہت سے معاملات پر اتفاق ہوگیا ہے، مزید معاملات پر اتفاق ہونا ہے،ایک روز کیلیے مذاکرات کا دور ملتوی کیا گیا ہے۔

